کیا غزہ میں جنگ بندی دیرپا ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
غزہ وہ زمین جو کبھی زیتون کے باغات اور بچوں کی ہنسی سے مہکتی تھی، آج بارود کی بُو اور بے گور و کفن لاشوں سے پہچانی جاتی ہے۔ برسوں سے اس دھرتی پر خون بہتا آ رہا ہے اور ہر بار امن کی بات ایک بوسیدہ وعدے کی طرح دیوارِ گریہ سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے۔ اب پھر ایک نئی جنگ بندی کی خبر ہے مگر کیا یہ صلح دیرپا ہوگی؟ یا یہ بھی ماضی کی طرح ایک عارضی توقف ہے جو پھر کسی فائرنگ کی آواز میں دفن ہو جائے گا؟
ہماری تاریخ گواہ ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جتنی جنگ بندیاں ہوئیں اتنی ہی بار ان کا گلا گھونٹا گیا، سوال یہ نہیں ہے کہ جنگ بندی ہو گئی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا امن کا یہ نازک سا پھول ظلم طاقت اور سیاست کی گرد سے بچ سکے گا؟گزشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی جنگ بندی چند شقوں پر مبنی ہے۔
قیدیوں کا تبادلہ ،اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا اور انسانی امداد کی اجازت۔ بظاہر یہ خوش آیند ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان الفاظ کے پیچھے نیت کتنی سچی ہے؟ کیا ان تحریروں کو عالمی طاقتیں تسلیم کریں گی؟ اور کیا فریقین واقعی ان پر عمل کریں گے؟ماضی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اوسلو معاہدہ ہوا ،کیمپ ڈیوڈ سجا لیکن امن لہو لہان رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک کسی معاہدے کی ہر شق کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ کیا جائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی نہ بنایا جائے وہ محض کاغذ ہی رہتا ہے۔دوسرا سوال سیاسی نیت کا ہے کیا اسرائیلی حکومت اس معاہدے کو سنجیدگی سے لے گی؟ یا نیتن یاہو جیسے سیاستدان اسے محض وقتی دباؤ سے نکلنے کا راستہ سمجھیں گے؟ کیا حماس کی قیادت کے پاس اتنی قوت ہے کہ وہ تمام گروپوں کو ایک موقف پر لا سکے؟ یا پھر غزہ کی سرزمین پر درجنوں مسلح گروہ کسی ایک نظم میں بندھنے سے انکاری رہیں گے؟
یہ کوئی نیا منظر نہیں ہماری دنیا کی سیاست اپنے مفادات کی گٹھری باندھے انسانی جانوں کو تختہ مشق بناتی آئی ہے۔ فلسطینیوں کا دکھ ان کے بچوں کی لاشیں، ان کی ماؤں کی چیخیں صرف وہی سنتے ہیں جن کے دل میں انسانیت ابھی سانس لیتی ہے۔
باقی سب کے لیے یہ صرف بین الاقوامی مسئلہ ہے جس پر اجلاس تو ہوتا ہے عمل نہیں۔اگر واقعی یہ جنگ بندی دیرپا ہو تو سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ نگران کون ہوگا؟ کیا اقوامِ متحدہ اپنی وہ حیثیت واپس حاصل کر چکی ہے جہاں وہ متحرک کردار ادا کر سکے؟ کیا امریکا اور یورپی یونین اس امن کو مضبوط کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہیں؟ یا ان کے الفاظ اب بھی دوغلے ہوں گے جب تک جنگ بندی کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی نہ کی جائے اور کسی فریق کو یہ اعتماد نہ ہو کہ دنیا اس کے ساتھ کھڑی ہے امن ایک کمزور شمع کی طرح ہوا کے رحم و کرم پر رہتا ہے۔
ذرا ان ماؤں کا حال سوچیں جو اپنے بچے دفن کر چکی ہیں۔ ان بچوں کا تصور کریں جن کی آنکھوں نے اسکول کی جگہ صرف ملبہ دیکھا۔ وہ گھر جو اب صرف مٹی ہیں۔ جنگ بندی ان سب کے لیے ہے مگر یہ تب ہی دیرپا ہوگی جب ان کی زندگی میں حقیقی تبدیلی آئے گی۔ اگر صرف بمباری رکنے کو امن سمجھا گیا تو یہ فریب ہے۔ امن وہ ہے جب اسپتال ہوں اسکول کھلیں بچے کھیلیں اور کسی فلسطینی ماں کو خوف نہ ہو کہ اگلی صبح اس کا بیٹا واپس آئے گا یا نہیں۔
امن کی پہلی شرط ہے انصاف۔ جب تک فلسطینی عوام کو ان کا حق ان کی زمین، ان کی خودمختاری اور ان کی عزت واپس نہیں ملتی، کوئی جنگ بندی دیرپا نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک نکتہ ہے جس پر دنیا آنکھیں بند کر لیتی ہے۔
اسرائیلی مظالم، بستیوں کی تعمیر، جبری انخلا اور فلسطینی عوام کو دہشت گرد کے لقب سے پکارنا یہ سب امن کے خلاف زہر ہیں۔ اگر دنیا واقعی جنگ بندی کو دیرپا دیکھنا چاہتی ہے تو اسے صرف میز پر نہیں میدان میں انصاف کرنا ہوگا۔یہ جنگ بندی ایک لمحہ سکون ہے جیسے کوئی زخمی ماں اپنے مردہ بچے کو آخری بار سینے سے لگاتی ہے۔ خاموش نڈھال مگر پھر بھی سینے میں امید کی کوئی ننھی سی چنگاری باقی ہے۔ کیا دنیا اس چنگاری کو بجھنے دے گی؟ یا اس پر ہاتھ رکھ کر اسے ہوا دے گی؟ یہی سوال ہے اور یہی امتحان۔
جنگ بندی کے بعد کیا پھر غزہ کی زمین پر زندگی لوٹ آئے گی؟ کیا وہ بچے جو مہینوں سے تعلیم سے محروم ہیں، پھر سے اسکول جا سکیں گے؟ کیا وہ مائیں جن کے بچے ان سے جدا ہو گئے کسی نئی صبح کی امید میں آنکھ کھول سکیں گی؟ یا پھر سب کچھ یوں ہی چلتا رہے گا؟ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ صرف توپوں کا خاموش ہونا امن نہیں ہوتا۔ امن وہ ہے جو دلوں میں اُترتا ہے جو خوابوں کو جنم دیتا ہے جو نسلوں کو ایک نئے مستقبل کا حوصلہ دیتا ہے، اگر غزہ کے نوجوان اب بھی ایک ویران ملبے میں جنم لیں گے اگر ان کی زندگی صرف جدوجہد اور موت کے بیچ جھولتی رہے گی تو پھر ہم نے امن نہیں صرف خاموشی پیدا کی ہے۔
یہ صرف غزہ کا امتحان نہیں یہ پوری دنیا کا امتحان ہے۔ وہ دنیا جو انسانی حقوق کی علمبردار بنتی ہے جس کے ایوانوں میں جمہوریت کے گیت گائے جاتے ہیں اگر وہ خون میں لت پت معصومیت کے لیے آواز بلند نہیں کر سکتی تو پھر وہ اپنے ہی دعوؤں سے منہ موڑ چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دیرپا ہو سوال یہ کے لیے کی طرح
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔