سندھ میں ڈاکوؤں کیلئے سرینڈر پالیسی کا اعلان، معافی نہیں ملے گی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میںکچے کے علاقوں میں لاگو ہوگی،قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا
تعلیم، صحت ،فلاحی سہولیات ، ہتھیار ڈالنے والوں کو فنی تربیت، روزگار فراہم کیا جائے گا،محکمہ داخلہ
سندھ حکومت نے سرینڈر پالیسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے جو سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے کچے کے علاقوں میں لاگو ہوگی۔ محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا، یہ پالیسی عام معافی نہیں بلکہ امن کے قیام کے لیے تیار کی گئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں سے اسلحہ اور بارود برآمد کیا جائے گا جبکہ ان کے اہلخانہ کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ کچے کے علاقوں میں تعلیم، صحت اور فلاحی سہولیات کی بحالی کے ساتھ ہتھیار ڈالنے والوں کو فنی تربیت اور روزگار بھی فراہم کیا جائے گا۔محکمہ داخلہ نے سرینڈر پالیسی پر عملدرآمد کے لیے مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کر دی ہیں، جبکہ ایک ریڈریسل سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پالیسی سزا سے استثنا نہیں بلکہ امن اور ترقی کے فروغ کے لیے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کیا جائے گا
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔