کراچی؛ پولیس کی مختلف کارروائیاں، متعدد ڈاکو گرفتار، شہریوں کے تشدد سے ایک ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
کراچی:
شہرِ قائد میں پولیس کی جانب سے مختلف کارروائیوں میں ڈکیت گروہوں کے کئی کارندے زخمی حالت میں گرفتار جبکہ ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا۔
پولیس کی کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز، نقدی، قیمتی گھڑیاں، موٹرسائیکلیں اور چوری شدہ سفید کرولا کار بھی برآمد کی گئی۔
پانچ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
گڈاپ سٹی، فیروزآباد اور اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل (AVLC) نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلوں کے بعد پانچ ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔
گڈاپ سٹی میں بقائی ٹول پلازہ کے قریب فضل واحد اور ذاکر اللہ گرفتار کیے گئے جن سے اسلحہ اور گلشن معمار سے چھینی گئی موٹرسائیکل برآمد ہوئی۔
فیروزآباد میں شہید ملت روڈ پر فرحاد اور عثمان نامی ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں پکڑا گیا جن کے قبضے سے اسلحہ، نقدی اور موٹرسائیکل برآمد ہوئی۔
شریف آباد کے علاقے میں AVLC نے ایک کار لفٹر محمد سلیم عرف ملک کو گرفتار کیا، جس کے قبضے سے 2022 میں چوری کی گئی سفید کرولا کار (ADE-333) برآمد ہوئی۔ ملزم گینگ وار کا اہم کارندہ اور سابقہ ریکارڈ یافتہ ہے۔
کورنگی
کورنگی چکرا گوٹھ کے علاقے نورانی بستی میں شہریوں نے ڈکیتی کی کوشش کرنے والے دو مبینہ ڈاکوؤں کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
واقعے کے دوران فائرنگ سے ایک ڈاکو موقع پر ہی ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا، دونوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
ہلاک و زخمی ڈاکوؤں کی فوری شناخت نہیں ہو سکی جبکہ زمان ٹاؤن پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
ڈیفنس
ساحل پولیس نے ڈیفنس فیز 8 کے قریب کارروائی کرتے ہوئے پانچ رکنی ڈکیت گینگ کے چار کارندوں کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان میں انیس ولیم، امجد خلیل، سونو کھوکھر اور زیشان علی شامل ہیں۔
ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی پستول، موبائل فونز، بریسلٹ، قیمتی گھڑیاں اور شناختی کارڈ برآمد کیے گئے جبکہ پانچواں ساتھی ذیشان حیدر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زخمی حالت میں
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک