Daily Pakistan:
2026-06-03@00:11:47 GMT

سٹیٹ بینک نے شہریوں کو مالیاتی فراڈ سے خبردار کردیا

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

سٹیٹ بینک نے شہریوں کو مالیاتی فراڈ سے خبردار کردیا

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے عوام کو جعلی ٹرانسفرسکیموں سے خبردار کر دیا ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق دھوکے بازوں نے نیا حربہ تلاش کرلیا ہے، آئے دن غلطی سے پیسے بھیجنے کا ڈرامہ رچا کر عوام سے رقم ہتھیا رہے ہیں، ایسے دھوکے بازوں سے بینک دولت پاکستان نے ہوشیار رہنے کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔

سٹیٹ بینک نے مالیاتی فراڈ سے بچنے کے لیے ہدایت جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غلطی سے پیسے بھیجنے کے دھوکے سے ہوشیار رہیں، دھوکے باز افراد اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے غلطی سے آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے بھیج دیے ہیں اور آپ پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ رقم واپس کریں۔

وفاقی ٹیکس محتسب کا سمگل گاڑیوں کے بارے میں بڑا فیصلہ،اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

 سٹیٹ بینک کے مطابق دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ یہ شہریوں کے اکاؤنٹس سے رقم چرانے کا ایک باقاعدہ سوچا سمجھا نیا حربہ ہے۔

مرکزی بینک نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ایسی کسی بھی کال یا ایس ایم ایس پر یقین نہ کریں، اگر اس طرح کے پیغامات کسی بینک کے آفیشل نمبر کے بجائے کسی عام نمبر سے آئے تو یہ ممکنہ طور پر فراڈ ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کے پی سے واپس کی گئیں بلٹ پروف گاڑیاں بلوچستان کو دینے کا اعلان

ایسی صورت میں شہریوں کا کیا کرنا چاہیے؟
سٹیٹ بینک کے مطابق ایسی صورت میں شہریوں کو پہلے اپنی حالیہ ٹرانزیکشنز چیک کرنی چاہیے۔ تصدیق کئے بغیر کبھی بھی رقم منتقل مت کریں۔

دھوکے کی صورت میں کیا کریں؟
سٹیٹ بینک کے مطابق دھوکے کی صورت میں شہریوں کو چاہیے کہ فوراً اپنے بینک سے رابطہ کریں انہیں اطلاع دیں اور نمبر کو پی ٹی اے کو 080025625 پر رپورٹ کریں۔

واضح رہے کہ شہریوں کو ڈیجیٹل بینکنگ کے دوران احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ عوام کسی بھی شخص کو اپنی ذاتی معلومات، بینک اکاؤنٹ یا او ٹی پی فراہم نہ کریں، چاہے وہ خود کو بینک کا نمائندہ ہی کیوں نہ ظاہر کرے۔

آل راؤنڈر عامر جمال کی ننھی شہزادی انتقال کرگئی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سٹیٹ بینک شہریوں کو کے مطابق بینک کے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟