رواں برس ملک میں شدید سردی پڑنے کا امکان نہیں: محکمہ موسمیات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محکمہ موسمیات نے رواں سال موسمِ سرما کے حوالے سے پیشگوئی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس بار ملک میں سردی کی شدت معمول سے کم رہے گی۔ محکمہ کے ترجمان انجم نذیر کے مطابق نومبر، دسمبر اور جنوری کے دوران درجہ حرارت اوسط سے کچھ زیادہ رہنے کا امکان ہے، خصوصاً شمالی علاقوں میں بھی موسم گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نسبتاً گرم رہنے کی توقع ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اس سال موسمِ سرما میں بارشوں کی شرح معمول سے کم رہے گی، جس کے باعث ملک کے کئی حصوں میں خشک موسم برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوری کے آخر میں بارش کا ایک سلسلہ متوقع ہے جو وقتی طور پر موسم میں ٹھنڈک لا سکتا ہے، تاہم مجموعی طور پر بارشیں کم ہونے سے فضا میں آلودگی برقرار رہے گی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں میں کمی کے نتیجے میں پنجاب اور بالائی سندھ میں اسموگ کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ فضائی معیار مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
انجم نذیر نے مزید بتایا کہ بحیرہ عرب میں ایک ڈپریشن موجود ہے جو کراچی سے تقریباً 1800 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، تاہم اس کے پاکستان کے ساحلی علاقوں پر کسی قسم کے اثرات متوقع نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں، مڈغاسکر کے قریب موجود ایک سمندری طوفان نے بحیرہ عرب کے نظام پر اثر ڈالا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ ڈپریشن میں شدت آنے کا امکان کم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا امکان
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔