data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(رپورٹ: منیر عقیل انصاری) نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا )ریجنل ہیڈ آفس کراچی اور TMC گلبرگ کے درمیان میگا سینٹر گلبرگ ٹاؤن کے قیام کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل نادرا سندھ نادر علی خان، چیئرمین گلبرگ ٹاؤن نصرت اللہ، نائب امیر جماعتِ اسلامی گلبرگِ وسطی فاروق نعمت اللہ، میونسپل کمشنر عبدالحمید سہگ اور علاقے کے عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔

یہ نیا میگا سینٹر کراچی کا سب سے بڑا میگا سینٹر ہوگا، جو نادرا RHO کراچی کے زیرِ اہتمام قائم کیا جا رہا ہے۔ اس سینٹر میں 40 کاؤنٹرز پر مشتمل جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔میگا سینٹر روزانہ 4,000 درخواست گزاروں کو خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ یہ سینٹر 24 گھنٹے، ہفتے کے 6 دن کام کرے گا۔سینٹر میں مرکزی ائیر کنڈیشننگ سسٹم نصب کیا جائے گا، جس میں 1,500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش اور ائیر کنڈیشنڈ انتظار گاہ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے اسٹینڈ بائی جنریٹر نصب کیا جائے گا، جبکہ 24/6 کی بنیاد پر پاسپورٹ واؤچر کاؤنٹر، اسلحہ لائسنس کاؤنٹر، بزرگ شہریوں کے لیے علیحدہ کاؤنٹر اور تھیلیسیمیا مریضوں کے لیے خصوصی کاؤنٹر قائم کیے جائیں گے۔

مزید یہ کہ میگا گلبرگ سینٹر میں دو زونل آفس بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ عوام کو سینٹرل ڈسٹرکٹ کے قریب ترین سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

واضح رہے یہ جگہ گلبرگ ٹاؤن نے نادرا کو اس سینٹر کے قیام کے لئے ایک MOU کے تحت دی ہے۔یہ میگا سینٹر گلبرگ کے علاقے عاشہ منزل، سخی حسن، نارتھ ناظم آباد، نیو کراچی، گلشن،گلستان جوہر اور لیاقت آباد کے شہریوں کو نادرا کی جدید ترین خدمات سے بآسانی استفادہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔نادرا کی جانب سے جدید ترین میگا سینٹر شہریوں کو ایک ہی چھت کے نیچے متعدد سہولیات فراہم کرے گا، جس سے عوامی خدمت اور سہولت کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔

چیئرمین نصرت اللہ نے کہا کہ ”جماعتِ اسلامی عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے اور اختیارات سے بڑھ کر عوامی خدمت کے لیے کام کر رہی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ ”کراچی کے سب سے بڑے میگا سینٹر کا ایف بی ایریا میں قیام عوام کے لیے سہولت اور آسانی کا باعث بنے گا۔

ڈائریکٹر جنرل نادرا سندھ عامر علی خان نے کہا کہ نادرا جدید سہولیات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو معیاری خدمات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، گلبرگ ٹاؤن میں میگا سینٹر کا قیام اس عزم کی عملی مثال ہے۔

آخر میں میونسپل کمشنر عبدالحمید سہاگ نے نادرا حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی سہولت کے لیے اداروں کے درمیان تعاون کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میگا سینٹر گلبرگ ٹاؤن گا سینٹر کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی