پاکستان نے مہاجرین کو سینے سے لگایا، ہندوستان ہرا نہیں سکتا: وزیراعظم آزاد کشمیر WhatsAppFacebookTwitter 0 24 October, 2025 سب نیوز

مظفر آباد: (آئی پی ایس) وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا ہے کہ بھارتی فوج اور آر ایس ایس کے جتھوں نے لاکھوں کشمیریوں پر مظالم ڈھائے جبکہ پاکستان نے کشمیری مہاجرین کو سینے سے لگایا جس پر شکر گزار ہوں۔
یوم تجدید عہد پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام نے ہندوستانی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، آزادکشمیر ایک پسماندہ علاقہ شمار ہوتا تھا، آج آزاد کشمیر ہر شعبہ میں ترقی کررہا ہے۔
چودھری انوار الحق نے کہا کہ آج آزادکشمیر میں انسانی آزادی کی صورتحال مثالی ہے، آزادجموں وکشمیر میں ایک عدالتی نظام موجود ہے، افواج پاکستان کے جوانوں نے قربانیاں دے کر اس خطے کی حفاظت کی، شہدا اورغازیوں کو خراج تحسین و خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق نے دنیا کی جنگی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ کیا، پاکستان نے خود سے کئی گنا بڑے ملک ہندوستان کو بری،بحری،فضائی ،سفارتی اورسائبرحکمت عملی سمیت تمام محاذوں پر شکست فاش دی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ پاکستان نے ہندوستان کے تکبر کو خاک میں ملایا، پاکستان کی بین الاقوامی اہمیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا، معرکہ حق میں کامیابی کا کریڈٹ فیلڈمارشل سید عاصم منیر اورافواج کو جاتا ہے، تمام محاذوں پر دشمن کو شکست ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کےقیام کا مقصد اس وقت تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے گا جب تک مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام ہندوستان کے قبضہ سے آزاد نہ ہوجائیں، مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ 35سالوں میں ہزاروں نوجوانوں کو شہید کیا گیا، حریت قیادت کو پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔

وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ہندوستان تمام حربوں کے باوجود کشمیری عوام کے جذبوں کو شکست نہیں دے سکا۔

قبل ازیں آزاد کشمیر کے 78 یوم تاسیس کے موقع پر مظفرآباد میں 21 توپوں کی سلامی دی گئی، صبح کا آغاز دعائیہ تقریبات سے ہوا جن میں پاکستان اورکشمیر کی سلامتی اور شہدا کشمیر کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

اس موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے 21 توپوں کی سلامی دی، پاکستان اور آزاد کشمیر زندہ آباد کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈپٹی ڈائریکٹر سینیٹ چوہدری ناصر رفیق کے والد انتقال کر گئے علی ترین کی پی سی بی پر شدید تنقید، لیگل نوٹس پھاڑ دیا وفاقی حکومت نے رواں مالی سال میں کتنا قرضہ لیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں مستونگ سے اغوا ہونے والے پولیس افسر کی لاش مل گئی پاکستان کی بیٹنگ چلی نہ باؤلنگ، پنڈی ٹیسٹ پروٹیز کے نام، سیریز 1-1 سے برابر افغانستان میں خوارج کی موجودگی کیخلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں، ترجمان پاک فوج اسلام آباد ہائیکورٹ نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں کمی کی درخواست مسترد کر دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کشمیر نے کہا جموں وکشمیر پاکستان نے نے کہا کہ کشمیر کے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ