کراچی ایئرپورٹ حملہ: دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والے مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے کراچی ایئرپورٹ خودکش حملے میں ملوث دہشتگردوں کی مالی معاونت کے مقدمے میں مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے** کا حکم دے دیا۔
کراچی سینٹرل جیل کے انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں سماعت کے دوران، جیل حکام نے ملزم سعیدکو عدالت میں پیش کیا، جبکہ ضمانت پر رہا نجی بینک مینجر بلال بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر سے 30 اکتوبر تک رپورٹ طلب کرلی اور مقدمے کے مفرور ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی۔
پراسیکیوشن کے مطابق مفرور ملزمان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر بشیر بلوچ عرف بشیر زیب اور عبد الرحمان عرف رحمان گل شامل ہیں۔
ملزم سعید نے خودکش حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کی خریداری کے لیے 1 لاکھ روپے فراہم کیے تھے۔ نجی بینک مینجر بلال بھی ملزمان میں شامل ہیں، جنہوں نے خودکش حملہ آور شاہ فہد کو گاڑی کی خریداری میں سہولت فراہم کی۔
ملزمان کے خلاف دہشتگردوں کی مالی معاونت اور سہولت کاری کے الزامات ہیں، اور عدالت نے مفرور ملزمان کے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کارروائی شروع
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔