حکومتی اقدامات کی بدولت جلد پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ ہو گا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
حکومتی اقدامات کی بدولت جلد پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ ہو گا، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 24 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پولیو کے انسداد کیلئے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی محنت اور حکومتی اقدامات کی بدولت جلد پاکستان سے پولیو کا خاتمہ ہو گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جمعے کو انسداد پولیو کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق، انسداد پولیو کیلئے معاونت فراہم کرنے والے اداروں کے حکام اور ملک بھر سے منتخب پولیو ورکرز بھی موجودتھے۔وزیراعظم نے انسداد پولیو کیلئے وفاقی وزیر صحت، متعلقہ حکام اور عالمی شراکت داروں کی کاوشوں کو لائق تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔انہوں نے پولیو ورکرز کی جرات، لگن اور جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات وہ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر مشکل حالات اور علاقوں میں انسداد پولیو کیلئے خدمات سرانجام دے رہے ہیںِ
ان کی کاوشوں کی بدولت پاکستان سے جلد پولیو کا خاتمہ ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ اپنی، پوری قوم اور حکومت کی طرف سے پولیو ورکرز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یوم انسداد پولیو پر تقریب کا انعقاد اس مرض کی روک تھام کیلئے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کیلئے سرگرداں عظیم پاکستانیوں نے اپنی زندگیاں ملک کیلئے وقف کی ہیں۔ انہوں نے ڈبلیو ایچ او، یونیسف، بل گیٹس فائونڈیشن اور سعودی عرب سمیت تمام شراکت داروں کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جو پاکستان سے پولیو کے خاتمہ کیلئے خطیر رقم خرچ کر رہے ہیں۔قبل ازیں وزیراعظم نے انسداد پولیو کیلئے نمایاں خدمات سرانجام دینے والے پولیو ورکرز میں شیلڈز تقسیم کیں۔ ان میں پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے تمام صوبوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے پولیو ورکرز شامل تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کل ہونگے، افغان طالبان ہمارے خدشات دور کریں، دفتر خارجہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کل ہونگے، افغان طالبان ہمارے خدشات دور کریں، دفتر خارجہ سپریم کورٹ، عمر ایوب اور شبلی فراز کی نااہلی کیخلاف اپیلیں آئینی بینچ میں سماعت کیلئے مقرر خضدار میں مسلح افراد کا تعمیراتی کیمپ پر حملہ، 18مزدور اغوا، گاڑیاں نذر آتش ٹی ٹی پی کا تربیتی نیٹ ورک بے نقاب، افغان خودکش بمبار کا اعترافی بیان سامنے آگیا اسلام آباد میں لائف اسٹائل میڈیسن کی چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز انٹی کرپشن کا چھاپہ،یونیسیف کے ڈاکٹر طفیل دوہری ملازمت کے الزام میں گرفتارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان سے پولیو خاتمہ ہو گا کی بدولت پولیو کا
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔