پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ورکرز ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں: گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے دینا چاہئے، اس طرح کے معاملات میں انکار مفت میں ہیرو بنانے والی بات ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ورکرز ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق گورنر ہاؤس پشاور میں خیبرپختونخوا کے ہم منصب سے ملاقات کے دوران سردار سلیم حیدر نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے ہمارا پرانا تعلق ہے، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) کا الیکشن کے بعد اتحاد بنا، 18ماہ کی جو گورنمنٹ تھی وہ بھی مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی نے مل کر بنائی تھی، پیپلزپارٹی کیلئے یہ ایک بھیانک خواب تھا۔
بیوروکریسی میں تبادلے
انہوں نے کہا کہ 18ماہ کی گورنمنٹ میں جو چیزیں طے کی گئیں وہ پوری نہ ہوسکیں، اس بار پہلے معاہدے پر دستخط ہوئے اور پھر حکومت بنائی گئی، ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، معذرت کے ساتھ اس بار بھی کچھ چیزیں ہیں جن پر عمل نہیں ہوسکا، سی اے سی میٹنگ میں پارٹی قیادت نے حکومت کو 1ماہ کا وقت دیا ہے۔
سردارسلیم حیدر کا کہنا تھا کہ ہم اس سسٹم کو چلانا چاہتے ہیں، امید ہے مسلم لیگ ن کی گورنمنٹ اور وزیراعظم ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو سنجیدگی کو دیکھیں گے، ہم توقع کرتے ہیں اس ماہ میں چیزیں بہتر ہوجائیں، معاملات ٹھیک ہونا ہی ملک کیلئے بہتر ہے، سیاسی لوگوں کو سیاسی طریقے سے ڈیل کرنا چاہئے۔
علاقائی روابط میں اضافے سے معاشی اورتجارتی شعبے میں انقلاب آئے گا: وزیراعظم
گورنر پنجاب نے کہا کہ عدالت نے اجازت دیدی ہے تو سہیل آفریدی کی بانی سے ملاقات میں کوئی حرج نہیں، سہیل آفریدی اگرجیل جاکر بانی پی ٹی آئی سے مل لیں گے تو کوئی آسمان نہیں گرے گااورقیامت نہیں آجائے گی، ملاقات کرنے دینی چاہئے، اس طرح کے معاملات میں انکار مفت میں ہیرو بنانے والے بات ہوتی ہے۔
سردار سلیم حیدر نے کہا کہ (ن) لیگ کے مستقبل پر کوئی پیش گوئی نہیں کرسکتا، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ورکرزایک دوسرے کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں، سسٹم ڈی ریل ہو جائے تو دوسرا کوئی راستہ نہیں، مسلم لیگ ن سے اتحاد محبت یا شوق کا نہیں بلکہ مجبوری کے تحت ہے، ملک کی وجہ سے ن لیگ سے اتحاد بنا۔
راولپنڈی؛ 3کروڑ سے زائد مالیت کے 60 آئی فون سمگلنگ کیس میں ملزم کو 6سال قید کی سزا
انہوں نے کہا کہ سسٹم نہیں چلے گا تو ملک کا نقصان ہوگا، دودھ اورشہد کی نہریں نہیں بہہ رہیں لیکن چیزیں بہتر ضرور ہوئی ہیں، جمہوریت ہے، سیاسی لوگوں کو سیاسی طریقے سے دیکھنا چاہئے، خیبرپختونخوا کے حقوق لینے کے لیے سیاسی عمل میں حصہ لینا ضروری ہے، تمام مسائل کے لیے بیٹھنا ضروری ہے، شہباز شریف پاکستان کے وزیر اعظم ہیں کسی دوسرے ملک کے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب ہے، انہوں نے جو غصہ کیا وہ نہیں کرنا چاہئے، پیپلزپارٹی کو ملک کی خاطر مجبوری کے تحت بیٹھنا پڑتا ہے، پیپلزپارٹی نےہمیشہ اپنے ووٹ کا نقصان کیا لیکن ملک کا نہیں ہونے دیا۔
راولپنڈی؛ شہری کو برہنہ کرکے تشدد کرنے کا کیس، گرفتار ملزمان میں پولیس اہلکار بھی شامل
اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی سے ملاقات کیلئے گئے ہیں، کابینہ نے بننا ہے پھر ہی معاملات نے آگے چلنا ہے،سمجھتا ہوں ہر کسی کا اپنی جگہ سیاسی ایجنڈا ہے، میں نے پچھلے وزیراعلیٰ کے پی سے بھی بات کی تھی کہ صوبائی اورپارلیمانی جرگہ بناکر وفاق کے پاس جائیں، وفاق سے بات چیت کریں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم نے دلیل اوردلائل سے بات کرکے وفاق سے اپنے حقوق لینے ہیں، ہم نے وفاق سے بدمعاشی سے اپنے حقوق نہیں لینے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم نے افغانستان کو دورہ کیا اور وہاں درخواست کی کہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کی جائے، پاکستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی بدامنی میں نصف سے زیادہ افغان شہری ملوث ہیں۔
پاکستان میں سونے کی قیمت مزید گرگئی
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سہیل آفریدی کو جانا جائے تھا، بارڈر بندش کا معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اُٹھایا ہے، آج پھر رابطہ کروں گا، پنجاب سے گندم اور دیگر اشیا پر پابندی عائد ہے جس کے باعث مشکلات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہماری پارٹی اورمسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے درمیان گرما گرمی ہوئی، صدر زرداری اوروزیراعظم ملک واپس آکر ایک ساتھ بیٹھے تو چیزیں بہتر ہوئیں، صوبے کی ترقی کیلئے گورنر ہاؤس کبھی رکاوٹ نہیں بنے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سہیل ا فریدی لیگ کے
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز