بھارتی میڈیا کا خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے زہریلا پروپیگنڈا بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک بار پھر بھارتی میڈیا کے گمراہ کن اور زہریلے پروپیگنڈے کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ بھارتی چینلز خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور دہشت گردوں کے بیانیے کو فروغ دینے کی مذموم مہم میں مصروف ہیں۔
وزارتِ اطلاعات نے بھارتی میڈیا کے ہتھکنڈوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا اپنی پراکسی تنظیم، “فتنہ الخوارج” کی حمایت میں کھل کر سامنے آیا ہے۔
ایک بھارتی چینل این ڈی ٹی وی نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ “8 اکتوبر کو کرم میں فتنہ الخوارج نے گھات لگا کر پاک فوج کے 22 جوانوں کو شہید کیا”۔ تاہم، پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے واضح کیا کہ یہ واقعہ کرم نہیں بلکہ ضلع اورکزئی میں پیش آیا تھا، جہاں 7 اور 8 اکتوبر کو انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران 11 فوجی شہید ہوئے جبکہ 19 خوارج کو مارا گیا۔
اسی طرح، بھارتی چینل “ریپبلک نیوز انڈیا” نے بھی ایک اور جھوٹا دعویٰ کیا کہ فتنہ الخوارج نے 24 گھنٹوں میں پاک فوج پر 16 حملے کیے۔ لیکن یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ثابت ہوا، کیونکہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران صرف 5 خوارج مارے گئے تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مودی کی حکومت کے زیر اثر بھارتی میڈیا اس طرح کی جھوٹی اور مضحکہ خیز رپورٹنگ کر رہا ہے، جو خطے میں انتشار پھیلانے کی کوشش ہے۔ بھارتی میڈیا کا یہ پروپیگنڈا دہشت گردوں کے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔