معدنیات لیز اور ٹیکسز کیخلاف تاریخی دھرنا دیا جائے گا، ایم ڈبلیو ایم روندو
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
مجلس وحدت المسلمین روندو کے صدر مولانا محمد اسحاق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے محنت کشوں اور معدنیات سے وابستہ افراد نے فیصلہ کیا ہے کہ 27 اکتوبر کو ایک تاریخی دھرنا اور احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت المسلمین روندو کے صدر مولانا محمد اسحاق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے محنت کشوں اور معدنیات سے وابستہ افراد نے فیصلہ کیا ہے کہ 27 اکتوبر کو ایک تاریخی دھرنا اور احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک صرف معدنیات تک محدود نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے مجموعی سیاسی، معاشی اور عوامی حقوق کے لیے ایک ہمہ گیر عوامی جدوجہد ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کے بنیادی مطالبات میں منرلز ڈیپارٹمنٹ کا خاتمہ، ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کا خاتمہ، گلگت بلتستان سے تمام ناجائز ٹیکسز کا خاتمہ، غیر قانونی لیز کی منسوخی اور منرلز ایکٹ 2024ء کا خاتمہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک عوام کے معاشی استحصال کے خاتمے اور خطے کے وسائل پر مقامی عوام کے حقِ ملکیت کے تحفظ کے لیے شروع کی جا رہی ہے۔ مولانا محمد اسحاق نے مزید کہا کہ ان شااللہ یہ تحریک صرف معدنیات نہیں بلکہ بجلی، زلزلہ متاثرین اور تمام بنیادی عوامی حقوق کے حصول کی تحریک بنے گی، جو آخرکار گلگت بلتستان کی حقیقی سیاسی و معاشی خودمختاری کی بنیاد ثابت ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کا خاتمہ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟