محسن نقوی سے پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
محسن نقوی سے پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو WhatsAppFacebookTwitter 0 25 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ میچے ڈشچک کی ملاقات ہوئی۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزارت داخلہ آمد پر پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ میچے ڈشچک کا خیر مقدم کیا، وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری اور پولینڈ میں پاکستان کے سفیر محمد سمیع بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، غیر قانونی امیگریشن، بارڈر سکیورٹی اور میوچل لیگل اسسٹنٹس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔اس موقع پر دونوں ملکوں کے رہنماوں نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے حکومتی سطح پر روابط بڑھانے کا فیصلہ کیا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ غیر قانونی امیگریشن پاکستان کیلئے بھی انتہائی حساس مسئلہ ہے، غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کے خلاف بھرپور کریک ڈاون کیا جا رہا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سمندری بارڈر کو محفوظ بنانے کیلے کوسٹ گارڈز کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، اس موقع پر پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری کو پولینڈ کے دورہ کی دعوت دی۔پولش نائب وزیر داخلہ نے کہا کہ انسانی سمگلنگ کو روکنے کیلئے ہمیں ایک قدم آگے رہنا ہو گا، پولش نائب وزیر داخلہ نے انسانی سمگلنگ کے تدارک کے سلسلے میں حکومت پاکستان کے اقدامات کو سراہا۔ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ میجر جنرل نور ولی خان اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا بھی اس موقع پر موجود تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈپلومیٹک انکلیو میں پیڈل ٹینس کورٹ و فٹنس ایرینا کا افتتاح کر دیا وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈپلومیٹک انکلیو میں پیڈل ٹینس کورٹ و فٹنس ایرینا کا افتتاح کر دیا سی ڈی اے کے ون ونڈو ڈائریکٹوریٹ میں باقاعدہ طور پر کیش لیس نظام نافذ العمل پاک افغان مذکرات ناکام ہوئے تو افغانستان سے کھلی جنگ ہوگی، خواجہ آصف ایس پی عدیل اکبر کی طبی بنیاد پر چھٹی منظور کی جاچکی تھی،پولیس ذرائع پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں شروع پاک-افغان مذاکرات کا دوسرا دور آج استنبول میں ہوگاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ محسن نقوی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔