‘لاسی’ اور ‘لاسٹ اِن اسپیس’ جیسی یادگار فلموں کی مشہور اداکارہ لاک ہارٹ انتقال کرگئیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ جون لاک ہارٹ، جو ٹی وی سیریز لاسٹ اِن اسپیس اور لاسّی میں اپنے یادگار کرداروں کے لیے جانی جاتی تھیں، 100 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق، جون لاک ہارٹ کا انتقال جمعرات کی شب طبعی وجوہات کی بنا پر ہوا۔ ان کی بیٹی جون الزبتھ اور نواسی کرسٹیانا آخری لمحات میں ان کے ساتھ موجود تھیں۔ خاندانی ترجمان لائل گریگری نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں تک بہت خوش تھیں اور روزانہ نیویارک ٹائمز اور ایل اے ٹائمز پڑھتی تھیں، کیوں کہ وہ دنیا کے حالات سے باخبر رہنا ضروری سمجھتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار رابرٹ ریڈفورڈ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
جون لاک ہارٹ 1925 میں نیویارک میں اداکار جوڑے جین اور کیتھلین لاک ہارٹ کے گھر پیدا ہوئیں۔ انہوں نے صرف 8 سال کی عمر میں اسٹیج پر قدم رکھا اور 1938 کی فلم اے کرسماس کیرول میں بطورِ چائلڈ ایکٹر پہلی بار اسکرین پر آئیں۔
انہوں نے براڈوے پر بھی شاندار کارکردگی دکھائی، خصوصاً 1947 کے ڈرامے فار لوو اور منی میں اپنے کردار پر 1948 میں خصوصی ٹونی ایوارڈ حاصل کیا۔
ٹی وی کیریئر کا آغاز 1949 میں ہوا اور وہ کئی مشہور سیریز جیسے ہال مارک ہال آف فیم، واگن ٹرین، گنزموک، پٹی کوٹ جنکشن، جنرل ہاسپٹل، بیورلی ہلز 90210، روزین اور گریز انیٹومی میں نظر آئیں۔
1958 میں انہوں نے مشہور سیریز لاسّی میں مرکزی کردار ادا کیا، جس نے انہیں گھریلو ناظرین میں بے حد مقبول بنایا۔ 1965 سے 1968 تک وہ سائنس فکشن شو لاسٹ اِن اسپیس میں ایک خلائی خاندان کی سربراہ کے طور پر سامنے آئیں۔ 2021 میں نیٹ فلکس کے ری بوٹ ورژن میں انہوں نے بطور آواز ایک مختصر کردار بھی نبھایا۔
این پی آر سے 2004 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ لوگ کہتے تھے کہ اس شو نے انہیں سائنسدان بننے کی ترغیب دی۔ میں نے 6 سال لاسّی میں کام کیا، مگر کسی نے کبھی نہیں کہا کہ اس نے مجھے کسان بننے پر آمادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ہالی ووڈ اداکار بروس ولس کی دماغی حالت بگڑ رہی ہے، بیوی ایما ہیمنگ کا انکشاف
جون لاک ہارٹ کو 2 ایمی ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا اور ہالی ووڈ واک آف فیم پر انہیں 2 اسٹارز سے نوازا گیا۔
ان کے خاندان نے خواہش ظاہر کی ہے کہ پھول بھیجنے کے بجائے ایکٹرز فنڈ، پروپبلکا اور انٹرنیشنل ہیرنگ ڈاگ انک کو عطیات دیے جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اداکارہ جون لاکہارٹ ہالی ووڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اداکارہ ہالی ووڈ جون لاک ہارٹ ہالی ووڈ انہوں نے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔