حکومت نے سیاحت کے لئے مشہور مقامات کو سیاحوں کے لئے مکمل بند کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
سٹی42: خیبر پختونخوا کی حکومت نے سیاحت کے لئے مشہور مقامات کو سیاحوں کے لئے مکمل بند کر دیا۔
کاغان پلدران سے بابوسر ٹاپ تک سڑک کو برفباری کے باعث ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بندکر دیا گیا ہے۔ کاغان اور ناران کی وادیاں سیاحوں اور باہر سے آنے والوں کے لئے بند کر دی گئی ہیں۔
مانسہرہ کے ڈپتی کمشنر نے بتایا ہے کہ سردی کی شدت، ٹمپریچر بہت زیادہ گر جانے کی وجہ سے سیاحوں کی زندگیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے کاغان ویلی ناران کو سیاحوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
مانسہرہ میں ڈپٹی کمشنر نے ایک ایدوائزری جاری کی ہے، اس میں مسافروں سے گزارش کی گئی ہے کہ شمالی علاقوں کی طرف سفر کے لیے کے کے ایچ (قراقرم ہائی وے) استعمال کریں۔ مانسہرہ ےک راستوں کو بند سمجھیں۔
ضلعی انتظامیہ نے تھانہ ناران سے پولیس کے اہلکاروں کو سردی کی شدید لہر سے بچانے کے لئے نیچے واپس بلا لیا ہے۔
کاغان سے آگے تمام پولیس چیک پوسٹیں عارضی طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔ ان تمام چیک پوسٹوں پر اور ملحقہ علاقہ مین اب کوئی پولیس محافظ موجود نہیں ہو گا۔
ڈپی کمشنر کے آفس نے آج شاہرہ کاغان کی بابو سرٹاپ تک مکمل بندش کا نوٹفیکشن بھی جاری کر دیا ہے۔
انڈونیشیا کے صدر سے چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کی ملاقات؛دو طرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال
آج سے کاغان کے علاقہ میں برف باری دیکھنے کے لئے آنے والے سیاح صرف کاغان تک سفر کر سکیں گے۔
ڈپٹی کمشنر آفس کے ذرائع نے بتایا کہ اب کاغان، ناران کی وادیوں کو موسمِ بہار آنے تک بند ہی تصور کیجئے۔ آنے والے مہینوں میں سردی زیادہ پرے گی اور انسانی زندگیوں کی حفاظت کے لئے ان وادیوں کو اور دیگر بلند علاقوں کو باہر سے آنے والوں کے لئے بند رکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔