غزہ جنگ بندی معاہدہ: امریکن ایئرلائنز کا اسرائیل کے لیے فضائی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
امریکی فضائی کمپنی امریکن ایئرلائنز نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ سال مارچ میں اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کرےگی۔
یہ پروازیں نیو یارک کے جے ایف کینیڈی ایئرپورٹ سے تل ابیب کے لیے ہوں گی۔ کمپنی نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے اور اس کے بعد شروع ہونے والی 2 سالہ جنگِ کے باعث یہ فضائی آپریشن معطل کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر حماس کا ردعمل آگیا
امریکن ایئرلائنز کے مطابق تل ابیب کے لیے پروازوں کا دوبارہ آغاز 28 مارچ سے کیا جائے گا۔
حماس کے حملے کے بعد بیشتر غیر ملکی ایئرلائنز نے تل ابیب کے لیے پروازیں بند کر دی تھیں، جبکہ گزشتہ 2 برس کے دوران ایران اور یمن کی جانب سے وقفے وقفے سے ہونے والی میزائل فائرنگ کے باعث فضائی سروسز طویل عرصے تک معطل رہیں۔
اس عرصے میں بین الاقوامی پروازوں کا زیادہ تر بوجھ اسرائیل کی قومی ایئرلائن ایل آل اور مقامی کمپنیوں نے اٹھایا، مگر پروازوں کی کمی کے باعث ٹکٹوں کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اب جبکہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا چکا ہے، تو متعدد غیر ملکی ایئرلائنز نے تل ابیب کے لیے فضائی آپریشن بحال کرنا شروع کر دیا ہے۔ برٹش ایئرویز، ایس اے ایس، آئبیریا اور سوئس ایئر اس ہفتے کے دوران اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر رہی ہیں۔
امریکن ایئرلائنز کے دوبارہ آپریشن کے آغاز کے بعد وہ امریکا سے اسرائیل کے لیے بلاوقفہ پروازیں چلانے والی پانچویں ایئرلائن بن جائے گی۔ اس فہرست میں پہلے سے ایل آل، آرکیا، ڈیلٹا اور یونائیٹڈ ایئرلائنز شامل ہیں۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز اس وقت نیوآرک سے تل ابیب کے لیے روزانہ پروازیں چلا رہی ہے اور آئندہ واشنگٹن اور شکاگو سے بھی پروازوں کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، حملے میں 9 فلسطینی شہید
اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق تل ابیب کے قریب بن گوریون ایئرپورٹ پر رواں سال کے ابتدائی 9 مہینوں میں مسافروں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے جو ایک کروڑ 36 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکن ایئرلائنز غزہ جنگ بندی معاہدہ فضائی آپریشن وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکن ایئرلائنز غزہ جنگ بندی معاہدہ وی نیوز امریکن ایئرلائنز تل ابیب کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔