تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں شروع، فضائی حملے
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں، تازہ حملوں میں ایک تھائی فوجی ہلاک اور 7 اہلکار زخمی ہوگئے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق تھائی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے کمبوڈیا کے ساتھ متنازع سرحد کے نئے مقامات تک حملے بڑھا دیے ہیں۔ تھائی فوج کی جانب سے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے طیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔
ترجمان تھائی فوج کا کہنا ہے کہ کمبوڈین ملٹری نے ہتھیار اور فوجیوں کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا ہے۔
کمبوڈیا کی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ تھائی فوج نے اشتعال انگیز کارروائیوں کے بعد 2 مقامات پر حملے کیے ہیں، کمبوڈیا کے فوجیوں نے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔
دوسری جانب ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے کمبوڈین اور تھائی فوج میں مسلح جھڑپوں کی رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں انور ابراہیم نے کہا کہ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ تحمل کا مظاہرہ کریں، امن کے لیے رابطے برقرار رکھیں۔
گزشتہ روز دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔
واضح رہے کہ جولائی میں سرحدی تنازعے کے بعد تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان 5 دن تک جنگ جاری رہی تھی، ان جھڑپوں میں دونوں جانب 48 افراد ہلاک اور ایک اندازے کے مطابق 3 لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہوئے تھے۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں اکتوبر میں کوالالمپور میں دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کمبوڈیا کے تھائی لینڈ کے درمیان تھائی فوج
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔