فضائی آلودگی، پاکستان کا بھارت کیخلاف عالمی سطح پر معاملہ اٹھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
پاکستان نے بھارت کیخلاف عالمی سطح پر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ پنجاب حکومت کیپ انوائرمنٹ کانفرنس میں بھارت کیخلاف اہم شواہد پیش کرے گی، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے فضائی آلودگی سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان نے فضائی آلودگی کے معاملے پر بھارت کیخلاف عالمی سطح پر آواز اٹھانے کا فیصلہ کرلیا، کیپ انوائرمنٹ کانفرنس میں بھارت کیخلاف اہم شواہد پیش کئے جائیں گے۔ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کے بعد پاکستان نے بھارت کیخلاف عالمی سطح پر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ پنجاب حکومت کیپ انوائرمنٹ کانفرنس میں بھارت کیخلاف اہم شواہد پیش کرے گی، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے فضائی آلودگی سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے۔ حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ بھارت کے تقریباً 15 شہر فضائی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں کیونکہ بھارت فصلوں کی باقیات جلانے پر قابو نہیں پا سکا۔
پاکستان کی نمائندگی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کریں گی جو ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے پاکستان کا کیس عالمی سطح پر پیش کریں گی۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ سیزنل اسموگ ہے جو صرف تین ماہ کیلئے ہوتی ہے، تاہم بھارت سے آنیوالی ہواؤں کے باعث پنجاب کا ماحول زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ مریم نواز کی حکومت ایئر کوالٹی انڈیکس بہتر بنانے پر بھرپور کام کر رہی ہے، اور اکتوبر کے صرف 16 دنوں میں اسموگ کیخلاف تاریخی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پنجاب اے کیو آئی ایپ اور پورٹل متعارف کرا دیا گیا ہے، جبکہ خطے کی پہلی کلائمٹ آبزرویٹری پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ وزیر نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ صبح کے اوقات میں بچے اور بزرگ ماسک پہنیں، اور اگر عوام، کسان اور انڈسٹری تعاون کریں تو فضا کو بہتر بنانے کی جنگ جیتی جا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارت کیخلاف عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ فضائی آلودگی
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔