data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ غزہ میں پاکستانی فوج بھیجنے سے متعلق سوال کا جواب وزارت خارجہ کی جانب سے دیا جائے گا، کیونکہ یہ معاملہ خارجہ پالیسی اور سفارتی سطح پر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط اور قابلِ اعتماد ہاتھوں میں ہے، اور قوم کو اپنی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر پورا فخر ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاک فوج نے ہر دور میں ملکی سلامتی کو اولین ترجیح دی ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا ہمیشہ بھرپور اور مؤثر جواب دیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی کامیاب سفارتی پالیسی کے باعث آج ملک کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ سعودی عرب میں توانائی، سرمایہ کاری، تجارت اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔

انہوں نے کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے کہا کہ کھیل میں سیاست کو دخل نہیں دینا چاہیے، کیونکہ پاکستان نے اس شعبے میں عالمی سطح پر کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ عطا اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ پیڈل جیسے نئے کھیل کو ملک میں تیزی سے مقبولیت حاصل ہو رہی ہے، اور اسی مقصد کے لیے اسلام آباد کی سپر مارکیٹ میں جدید پیڈل کورٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ نوجوانوں کو بہتر کھیل سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے