data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: کاروباری ہفتے کے آغاز پر ایک بار پھر سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں آج پیر کے روز سونے کی قیمت میں کمی کے اثرات پاکستانی صرافہ بازاروں تک پہنچ گئے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر سونا اور چاندی دونوں کی قیمتیں گراوٹ کا شکار ہوگئیں۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج فی اونس سونا 33 ڈالر سستا ہوکر 4 ہزار 80 ڈالر کی سطح پر آگیا۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں یہ کمی تیکنیکی درستگی یعنی Technical Correction کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں اس کمی کے براہِ راست اثرات پاکستان کی صرافہ مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے، جس کے نتیجے میں کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں پیر کے روز 24 قیراط کے فی تولہ سونے کی قیمت 3 ہزار 300 روپے کمی سے 4 لاکھ 30 ہزار 362 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونا 2 ہزار 829 روپے کم ہوکر 3 لاکھ 68 ہزار 966 روپے پر آگیا۔

چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ فی تولہ چاندی 27 روپے کمی کے ساتھ 5 ہزار 97 روپے میں فروخت ہوئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 24 روپے گھٹ کر 4 ہزار 369 روپے تک محدود ہوگئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں بہتری، بانڈز پر منافع میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کا متبادل منڈیوں کی طرف رخ کرنا ہے۔

پاکستان میں روپے کی قدر میں معمولی استحکام اور درآمدی لاگت میں کمی بھی سونے کی قیمت گرنے کی ایک وجہ بنی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں دباؤ برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت میں مزید کمی کا امکان ہے، تاہم مقامی سطح پر ڈالر کی شرح میں کسی بھی اچانک تبدیلی سے یہ رجحان الٹ بھی سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سونے کی قیمت

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں کتنی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی؟
  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی