عالمی منڈی میں گراوٹ کے بعد پاکستان میں بھی سونا مزید سستا
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: کاروباری ہفتے کے آغاز پر ایک بار پھر سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں آج پیر کے روز سونے کی قیمت میں کمی کے اثرات پاکستانی صرافہ بازاروں تک پہنچ گئے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر سونا اور چاندی دونوں کی قیمتیں گراوٹ کا شکار ہوگئیں۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج فی اونس سونا 33 ڈالر سستا ہوکر 4 ہزار 80 ڈالر کی سطح پر آگیا۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں یہ کمی تیکنیکی درستگی یعنی Technical Correction کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں اس کمی کے براہِ راست اثرات پاکستان کی صرافہ مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے، جس کے نتیجے میں کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں پیر کے روز 24 قیراط کے فی تولہ سونے کی قیمت 3 ہزار 300 روپے کمی سے 4 لاکھ 30 ہزار 362 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونا 2 ہزار 829 روپے کم ہوکر 3 لاکھ 68 ہزار 966 روپے پر آگیا۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ فی تولہ چاندی 27 روپے کمی کے ساتھ 5 ہزار 97 روپے میں فروخت ہوئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 24 روپے گھٹ کر 4 ہزار 369 روپے تک محدود ہوگئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں بہتری، بانڈز پر منافع میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کا متبادل منڈیوں کی طرف رخ کرنا ہے۔
پاکستان میں روپے کی قدر میں معمولی استحکام اور درآمدی لاگت میں کمی بھی سونے کی قیمت گرنے کی ایک وجہ بنی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں دباؤ برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت میں مزید کمی کا امکان ہے، تاہم مقامی سطح پر ڈالر کی شرح میں کسی بھی اچانک تبدیلی سے یہ رجحان الٹ بھی سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔