لمحے کو قید کر لو، یہی تمہارا اصلی سرمایہ ہے
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: مولانا رومی نے کہا تھا کہ ہر سانس غنیمت سمجھو، کیونکہ دنیا ایک ہی سانس ہے، اس کے بعد کا سانس ایک نئی داستان ہے۔ علامہ اقبالؒ نے بھی وقت کی اہمیت کو اپنی شاعری کا مرکزی مضمون بنایا۔ فرصت کا بہترین استعمال یہ ہے کہ انسان اپنے اندر جھانکے، اپنی خامیوں کو پہچانے، اپنے مقصد کو واضح کرے۔ مطالعہ کرے، سوچے، عبادت کرے یا کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کرے۔ یہی وہ اعمال ہیں، جو وقت کو بابرکت بنا دیتے ہیں۔ آج کا انسان مشینی زندگی میں الجھ کر وقت کا غلام بن گیا ہے۔ وہ گھنٹوں بے مقصد مصروف رہتا ہے، مگر معنوی طور پر خالی ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے وقت کو خدا کی امانت سمجھ کر استعمال کریں۔ اگر ہم اپنی فرصت کو علم، فکر اور خدمت میں ڈھال لیں تو یہی لمحے ہماری ابدی کامیابی کا زینہ بن جائیں گے۔ تحریر: محمد حسن جمالی
زندگی ایک بہتا ہوا دریا ہے۔ اس کے پانی کے ساتھ لمحے بہتے چلے جاتے ہیں۔ کوئی ان لہروں پر سوار ہو کر منزل پا لیتا ہے اور کوئی کنارے بیٹھا تماشائی بن جاتا ہے۔ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ جو اسے پہچان لیتا ہے، وہ آگے بڑھ جاتا ہے اور جو غفلت برتتا ہے، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ زندگی ایک بہتا ہوا نغمہ ہے، جس کی ہر دُھن لمحوں کی صورت میں جنم لیتی ہے اور پھر خاموشی کے سناٹے میں گم ہو جاتی ہے۔ انسان اکثر یا تو گزری ہوئی یادوں کے زخموں میں الجھا رہتا ہے یا آنے والے دنوں کے خواب بُننے میں مصروف رہتا ہے، مگر جو لمحہ اس کے سامنے سانس لے رہا ہوتا ہے، وہی دراصل اس کی پوری زندگی کا حاصل ہوتا ہے۔ وقت کسی کے لیے نہیں رُکتا، لیکن وہ انسان خوش نصیب ہے، جو لمحے کو محسوس کرنا، جینا اور اپنے دل کے آئینے میں قید کر لینا جانتا ہے۔ ہر گزرتا پل ایک انمول تحفہ ہے، جو قدرت نے ہمیں خاموشی سے عطا کیا ہے۔ یہ لمحہ، یہی لمحہ۔۔۔ تمہارا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ ماضی گزر چکا، مستقبل ابھی آیا نہیں، مگر یہ لمحہ تمہارے اختیار میں ہے۔ اسے اپنی توجہ، محبت اور احساس سے بھر دو، کامیابی مقدر بن کر رہے گی۔
یاد رہے کہ فرصت کا مطلب صرف فارغ وقت نہیں، بلکہ یہ وہ نعمت ہے، جو انسان کو کچھ بہتر کرنے، کچھ سیکھنے یا کچھ دینے کا موقع دیتی ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ اکثر لوگ اسی نعمت کو ضائع کر دیتے ہیں۔ سستی، بہانے اور تفریح کے نام پر وہ ان لمحوں کو کھو دیتے ہیں، جن میں ان کی تقدیر لکھی جا سکتی تھی۔ اگر ہم دیکھنا چاہیں کہ فرصت سے کیسے استفادہ کیا جا سکتا ہے تو رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی ہمارے لیے ایک زندہ مثال ہے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ مقصد سے بھرا ہوا ہے۔ بچپن سے مطالعہ، علم و فکر اور عبادت ان کے معمول کا حصہ رہے۔ انہوں نے اپنی جوانی کے دن درس و تدریس، تحریر و تقریر اور معاشرتی خدمت میں گزارے۔ قید و بند کے ایام میں بھی وہ قلم اور کتاب سے جدا نہ ہوئے۔ جب جسم قید میں تھا تو ان کا ذہن اور دل علم و عمل میں آزاد تھا۔ قیادت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی ان کی زندگی میں نظم، مقصد اور جدوجہد نمایاں ہیں۔ فجر کے وقت اٹھنا، قرآن کی تلاوت، مطالعہ، ملاقاتیں اور عوامی امور کی نگرانی ان کا ہر لمحہ امت کی خدمت کے لیے وقف ہے۔ یہی تو فرصت کا بہترین استعمال ہے۔ وہ نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ جوانی کے ایام کو غفلت میں گنوا دینا سب سے بڑی محرومی ہے۔ یہ جملہ نصیحت سے بڑھ کر ایک طرزِ زندگی ہے۔ ان کے نزدیک فرصت وہ وقت ہے، جس میں انسان اپنے دل، دماغ اور روح کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
بڑی علمی شخصیات کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی علمی بلندی کا راز بھی یہی ہے کہ انہوں نے وقت کو ضائع نہیں ہونے دیا۔ علامہ طباطبائی نے برسوں تک مطالعے اور غور و فکر سے تفسیر المیزان جیسا شاہکار تحفہ امت کو دیا۔ ابن سینا، فارابی اور الغزالی جیسے مفکرین نے فرصت کے لمحوں کو تحقیق، مطالعہ اور تفکر میں ڈھال کر دنیا کو علم کا خزانہ عطا کیا۔ ان سب کی زندگیوں میں ایک قدر مشترک تھی، وہ ہے وقت کی حرمت۔ انہوں نے فرصت کو ضائع ہونے نہیں دیا، بلکہ اسے علم، فکر اور خدمت میں بدل دیا۔ یہی راز ہے ان کی علمی برتری کا۔ فرصت کا صحیح استعمال یہ ہے کہ انسان اپنے اندر جھانکے۔ خود سے سوال کرے کہ میں کہاں کھڑا ہوں۔؟ کیا میں وہ کر رہا ہوں، جو مجھے کرنا چاہیئے؟ کیا میں اپنے وقت کو بامقصد بنا رہا ہوں۔؟ یہ لمحے خود احتسابی کے ہوتے ہیں، خاموشی کے نہیں۔ مطالعہ، تفکر، عبادت یا کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کرنا یہ سب فرصت سے استفادہ کی صورتیں ہیں۔
ہماری بڑی محرومی یہ ہے کہ ہم وقت کی قدر نہیں کرتے۔ ہم گھنٹوں باتوں، اسکرینوں اور بے مقصد مشاغل میں گزار دیتے ہیں، مگر یہی وقت اگر ہم کسی علم، ہنر یا نیکی کے کام میں لگا دیں تو ہماری زندگی بدل سکتی ہے۔ وقت وہ تلوار ہے، جو کاٹ بھی سکتی ہے اور محافظ بھی بن سکتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم اسے کس سمت میں استعمال کرتے ہیں۔ زندگی انہی کی ہوتی ہے، جو لمحوں کی قدر جانتے ہیں۔ جو آج کو کل پر نہیں ٹالتے۔ دنیا کی تاریخ انہی لوگوں سے روشن ہے، جنہوں نے اپنے وقت کا حق ادا کیا، چاہے وہ قلم کے میدان میں ہو، عبادت کے سفر میں یا خدمت کے راستے پر۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ فرصت ایک نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ اگر ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا تو یہ کامیابی کا زینہ بن جاتی ہے اور اگر ہم نے اسے ضائع کر دیا تو یہی نعمت حسرت بن جاتی ہے۔ فرصت کا صحیح مفہوم یہ نہیں کہ انسان فارغ ہو کر بے فکری اختیار کرے، بلکہ یہ وہ وقت ہے، جب انسان اپنی روح، فکر اور ارادے کو نکھار سکتا ہے۔
مولانا رومی نے کہا تھا کہ ہر سانس غنیمت سمجھو، کیونکہ دنیا ایک ہی سانس ہے، اس کے بعد کا سانس ایک نئی داستان ہے۔ علامہ اقبالؒ نے بھی وقت کی اہمیت کو اپنی شاعری کا مرکزی مضمون بنایا۔ فرصت کا بہترین استعمال یہ ہے کہ انسان اپنے اندر جھانکے، اپنی خامیوں کو پہچانے، اپنے مقصد کو واضح کرے۔ مطالعہ کرے، سوچے، عبادت کرے یا کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کرے۔ یہی وہ اعمال ہیں، جو وقت کو بابرکت بنا دیتے ہیں۔ آج کا انسان مشینی زندگی میں الجھ کر وقت کا غلام بن گیا ہے۔ وہ گھنٹوں بے مقصد مصروف رہتا ہے، مگر معنوی طور پر خالی ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے وقت کو خدا کی امانت سمجھ کر استعمال کریں۔ اگر ہم اپنی فرصت کو علم، فکر اور خدمت میں ڈھال لیں تو یہی لمحے ہماری ابدی کامیابی کا زینہ بن جائیں گے۔ خیام فرماتے ہیں:
ابر آمد و باز بر سر سبزه گریست
بی بادهٔ گل رنگ نمی باید زیست
این سبزه که امروز تماشاگه ماست
تا سبزهٔ خاک ما تماشاگه کیست!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انسان اپنے نے وقت کو دیتے ہیں کی زندگی کہ انسان اپنے وقت یہ ہے کہ ہے کہ ہم فکر اور فرصت کا جاتا ہے رہتا ہے ہے اور وقت کی اگر ہم کسی کے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔