افغانستان نے حملہ کیا تو پی ٹی آئی پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگی، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر افغانستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو ان کی جماعت پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگی، پاکستان کو دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر سے سوال کیا گیا کہ افغانستان سے کشیدگی کے دوران ان کی جماعت کس کے ساتھ کھڑی ہے؟ جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستان کو دفاع کا حق حاصل ہے اور پاکستان اپنا دفاع کر بھی سکتا ہے، پاکستان کے ہر انچ کا دفاع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، 25 خوارج ہلاک، 5 جوان شہید
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک پاکستان پر براہِ راست حملہ کرتا ہے یا وہ پراکسی وار کے ذریعے پاکستان کے خلاف محاذ کھڑا کرے گا تو کوئی دو رائے نہیں کہ تمام پاکستانیوں کی طرح پی ٹی آئی بھی ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہی کھڑی رہے گی۔ اگر افغانستان کے ساتھ بھی کوئی ایسی صورتحال ہوئی تو ہم پاکستان کے ساتھ ہی کھڑے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تو امن میں رہنا پڑتا ہے، میں یہ کہوں گا کہ پاکستان بھی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پُرامن رہے۔ افغانستان کی صورتحال کشیدہ ہے، شاید افغانستان میں طالبان کی پورے ملک میں رِٹ اور کنٹرول نہیں ہے۔ اگر افغانستان کے ساتھ امن مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو پاکستان دوبارہ کوشش کرے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی کوئی حل نکل آئے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو کابینہ کی تشکیل کیسے ہوگی؟ بیرسٹر گوہر نے بتا دیا
انہوں نے کہا کہ پاکستان دوست ممالک کے ذریعے افغان طالبان پر دباؤ ڈالے، تاہم اگر طالبان پاکستان پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن دونوں پڑوسی ممالک کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کریں۔
پی ٹی آئی میں اختلافات کے حوالے سے سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کی ہدایت ہے کہ پارٹی معاملات کا پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا پر ذکر نہ کریں۔ بلال اعجاز اور احمد چٹھہ کی پی ٹی آئی کے لیے بہت قربانیاں ہیں، ان دونوں کو شاید عالیہ حمزہ نے عہدوں سے ہٹایا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news افغانستان بیرسٹر گوہر پاکستان پی ٹی آئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان بیرسٹر گوہر پاکستان پی ٹی ا ئی پاکستان کے ساتھ بیرسٹر گوہر نے نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ذریعے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔