پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں ہونیوالے مذاکرات بے نتیجہ ختم، جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
خیال رہے کہ اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان ہونیوالی سرحدی جھڑپوں میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان تحریری یقین دہانی دیں کہ وہ پاکستان مخالف گروہوں کیخلاف کارروائی کرینگے، تاہم طالبان حکام اس پر تیار نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے دونوں ممالک کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں ہونے والے یہ مذاکرات قطر، ترکیے اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے سلسلہ وار اجلاسوں کا حصہ تھے۔ ان اجلاسوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اکتوبر میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد پیدا کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
رائٹرز کے مطابق دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی اب تک بڑی حد تک برقرار ہے، تاہم گذشتہ ماہ استنبول میں ہونے والے فالو اپ مذاکرات میں طویل مدتی معاہدہ طے نہیں ہوسکا تھا۔ دونوں ممالک کے حکام نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حالیہ مذاکرات سعودی عرب کی ایک پیشکش کے تحت ہوئے۔ خیال رہے کہ اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان تحریری یقین دہانی دیں کہ وہ پاکستان مخالف گروہوں کے خلاف کارروائی کریں گے، تاہم طالبان حکام اس پر تیار نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دونوں ممالک کے کے درمیان ہونے والے میں ہونے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔