پینٹاگون کی آزادی صحافت پر نئی قدغن، نیویارک ٹائمز نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
نیویارک ٹائمز نے پینٹاگون کی میڈیا پر پابندیوں کی نئی پالیسی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار حسین نقی کو ’احفاظ الرحمن ایوارڈ برائے آزادی صحافت‘ مل گیا
اخبار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ پالیسی آئین کے خلاف ہے اور عدالت سے اس کے نفاذ کو روکنے کی استدعا کی جاتی ہے۔
امریکی اور بین الاقوامی نیوز اداروں اے ایف پی، اے پی، فاکس نیوز اور نیویارک ٹائمز شامل نے اکتوبر کے وسط میں اس نئی پالیسی پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے نتیجے میں ان کے پینٹاگون اسناد منسوخ کردی گئیں۔
مزید پڑھیے: مریم نواز کا آزادی اظہار کی خاطر شہید ہونےوالے برصغیر کے پہلے صحافی مولوی محمد باقر کو خراج تحسین
نیویارک ٹائمز کی درخواست کے مطابق پینٹاگون کی یہ پالیسی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صحافیوں کی اس صلاحیت کو محدود کرتی ہے جو وہ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں یعنی سرکاری اہلکاروں سے سوالات پوچھنا اور معلومات اکٹھی کرنا تاکہ عوام کو سرکاری بیانات سے آگے کی خبر فراہم کی جاسکے۔
مزید پڑھیں: آئین کی حفاظت میں پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کا کردار ہے، ہم خوف اور مجبوری کی سیاست نہیں کرتے، بلاول بھٹو
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر صحافی ایسی کوئی معلومات شائع کرتے ہیں جو پینٹاگون نے منظور نہ کی ہو تو یہ پالیسی اہلکاروں کو کسی بھی وقت بغیر کسی واضح معیار کے ان صحافیوں کے بیجز فوری طور پر معطل اور بعد ازاں منسوخ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی صحافت امریکا میں صحافتی آزادی پر قدغن پنٹاگون کی صحافت پر قدغن نیویارک ٹائمز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا زادی صحافت امریکا میں صحافتی ا زادی پر قدغن نیویارک ٹائمز نیویارک ٹائمز
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔