چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ پاکستان خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ یہ ملک مزید کسی سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی بحران کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، پاکستانی سیاسی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کے خدشات واضح ہو رہے ہیں، یہ ملک مزید کسی سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے حکومت سے ملک کے خلاف چلائی جانے والی مہم پر نظر رکھنے کا مطالبہ کردیا، ان کا کہنا تھاکہ جو لوگ اس ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں کی نشاندہی کریں جو ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے دوستوں سے گزارش ہے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، اگر فوجی جنرل ان کی مرضی و منشا سے کام کریں تو ٹھیک ورنہ غلط ہیں، یہ رویہ افسوسناک ہے۔ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھاکہ تحریک انصاف کا بیانیہ قومی سلامتی کے خلاف ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹھیک کہا تھا بانی تحریک انصاف ذہنی مریض ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: خالد مقبول

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا