مصباح کے بیٹے فہام الحق کی پی ایس ایل میں بھی انٹری ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
قومی ٹیم کے سابق کپتان اور سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق کے بیٹے کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دسویں ایڈیشن میں مقامی کھلاڑیوں کی کیٹگری میں شامل کرلیا گیا۔
پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پوسٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سابق کپتان مصباح الحق کے صاحبزادے اور انڈر 19 کرکٹر فہام الحق کو پاکستان سپر لیگ کے 10ویں ایڈیشن کیلئے مقامی کھلاڑیوں کی گولڈ کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔
ایمرجنگ کیٹیگری میں مقامی کھلاڑیوں کی انتہائی متوقع فہرست کی نقاب کشائی کی، جس میں حنین شاہ، عبید شاہ، انڈر 19 کپتان سعد بیگ اور شمائل حسین کئی قابل ذکر نام شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: مصباح کے بیٹے کی سرفراز کے سامنے بدتہذیبی پر مداح چراغ پَا
فہرست میں شامل نسیم شاہ کے بھائیوں نے گزشتہ سیزن میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے تیسری بار ٹرافی جتوائی تھی۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل10؛ پلئیرز ڈرافٹ کیلئے گوادر کا نام کیوں رکھا گیا تھا؟ انکشافات
واضح رہے کہ رواں برس پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا اگلا ایڈیشن اپریل اور مئی میں شیڈول ہوگا۔
https://www.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔