اسپیکر آفس کے دروازے تمام اراکین پارلیمنٹ کےلیے 24 گھنٹے کھلے ہیں، ترجمان قومی اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا کے مطابق ترجمان قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ اسپیکر آفس کے دروازے تمام اراکین پارلیمنٹ کےلیے 24 گھنٹے کھلے ہیں۔
اسپیکر دستیاب نہ بھی ہوں تو بہترین طریقہ سپیکر افس کو پیغام دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بانی پی ٹی آئی تک رسائی دینا میرا کام نہیں، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق
ترجمان کے مطابق اسپیکر آفس اور ان کا اسٹاف اراکین کا کوئی بھی پیغام ان تک لازمی پہنچاتا ہے۔
بعض اوقات اسپیکر حلقے یا میٹنگ میں ہوتے ہیں، بعض اوقات موبائل فون ان کے پاس نہیں ہوتا ایسے میں اراکین پارلیمنٹ کا اگر ان سے براہ راست رابط نہ ہو تو اسپیکر آفس کے ذریعے رابط کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر آفس ایاز صادق ترجمان قومی اسمبلی قومی اسمبلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر ا فس ایاز صادق ترجمان قومی اسمبلی قومی اسمبلی قومی اسمبلی اسپیکر ا فس
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔