بنگلہ دیش نے معزول رہنما شیخ حسینہ کے خاندان کیخلاف کرپشن مقدمات دائر کردیے WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2025 سب نیوز

ڈھاکہ (آئی پی ایس )بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد، ان کے خاندان، برطانوی وزیر اور اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار کے خلاف مقدمات درج کر لیے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 77 سالہ شیخ حسینہ واجد اگست 2024 میں انقلاب کے بعد بھاگ کر بھارت چلی گئی تھیں، جہاں انہوں نے بڑے پیمانے پر قتل سمیت دیگر الزامات کا سامنا کرنے کے لیے بنگلہ دیش حوالگی کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔

ان پر یہ مقدمات گنجان آباد دارالحکومت ڈھاکا کے مضافاتی علاقے میں قیمتی پلاٹوں پر مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر قبضے سے متعلق ہیں۔انسداد بدعنوانی کمیشن (اے سی سی) کے ڈائریکٹر جنرل اختر حسین نے صحافیوں کو بتایا شیخ حسینہ نے کچھ عہدیداروں کے ساتھ مل کر اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کے لیے پلاٹ مختص کیے تھے۔اختر حسین نے کہا کہ مقدمے میں نامزد افراد میں شیخ حسینہ کی بھانجی، برطانوی انسداد بدعنوانی کی وزیر ٹیولپ صدیق بھی شامل ہیں۔

انہوں نے اصرار کیا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا، عالمی ادارہ صحت جنوب مشرقی ایشیا کی سربراہ شیخ حسینہ نے بیٹی صائمہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔صائمہ واجد کی جانب فوری طور پر معاملے پر رد عمل نہیں دیا گیا۔شیخ حسینہ کے صاحبزادے سجیب واجد بھی نامزد افراد میں شامل ہیں، اسی طرح حسینہ کی بہن شیخ ریحانہ بھی نامزد ہیں جو کہ ٹیولپ صدیق کی والدہ بھی ہیں۔

ٹیولپ صدیق نے رواں ماہ خود کو برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے اسٹینڈرڈ ایڈوائزر کے حوالے کیا، یہ حوالہ برطانوی اخبارات سنڈے ٹائمز اور فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا کہ وہ حسینہ شیخ کی انتظامیہ سے منسلک جائیدادوں میں رہائش پذیر تھیں۔بنگلا دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے بھی دسمبر میں شیخ حسینہ کے خاندان کی جانب سے روسی فنڈ سے چلنے والے نیوکلیئر پاور پلانٹ سے منسلک 5 ارب ڈالر کے مبینہ غبن کی تحقیقات شروع کیں۔ کک بیک کے الزامات 12 ارب ڈالر کے روپپور نیوکلیئر پلانٹ سے متعلق ہیں، روس نے 90 فیصد قرض کے ساتھ بینک رول کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: شیخ حسینہ کے بنگلہ دیش کے خاندان

پڑھیں:

سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 12 فوجی، 2 پولیس اہلکار شہید، 12 دہشتگرد ہلاک کردیے گئے
  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ڈی ایس پی صدر رحیم یارخان معطل
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف