ڈاکٹر فوزیہ کی اعلیٰ حکام سے عافیہ کی جلد رہائی کیلیے مد د کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
کراچی( اسٹاف رپورٹر) گلوبل عافیہ موومنٹ کی رہنما اور ملک کی معروف نیورو فزیشن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جلد رہائی کے لیے فوری طور پر مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی اپیل پر سبکدوش ہونے والے امریکی صدر جوبائیڈن کو عافیہ کی رحم کی بنیاد پر رہائی کے لیے پٹیشن کی حمایت میں بارہ لاکھ سے زائد افراد پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی، ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کلائیو اسمتھ کے ہمراہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئیں ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی معافی کی درخواست کے حوالے سے وہ اگلے چار روز میں مختلف امریکی سینیٹرز و دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گی۔ امید ہے کہ جلد ہی کوئی پیش رفت متوقع ہے اور قوم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں اچھی خبر سنے گی تاہم اس موقع پر انہوں نے صدر مملکت اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے خاص طور پر اپیل کی ہے کہ وہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کے لیے اپنے اختیارات استعمال کریں توعافیہ کی رہائی آئندہ چند دنوں میں ممکن ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر فوزیہ امریکہ روانگی سے کافی قبل صدر مملکت، وزیراعظم، آرمی چیف ، ڈی جی آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کو خطوط ارسال کرچکی تھیں۔ان خطوط میںانہوں نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف پہلے ہی صدر بائیڈن کو ایک ذاتی خط لکھ کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عافیہ کے لیے معافی کی درخواست کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ہمارے وکیل کو یقین ہے کہ ہم آخر کار عافیہ کی رہائی کا مقصد حاصل کر سکتے ہیں، لیکن صرف اس صورت میں جب ہمیں صدر بائیڈن کی ذاتی توجہ اور امریکی انتخابی گہما گہمی کے درمیان پاکستان کی پرجوش حمایت حاصل ہو۔ انہوں نے خط میں وزارت امور خارجہ کے کردار پر افسوس کا اظہار کیا ہے جو گزشتہ ماہ ان کی تجویز کے مطابق ایک موثر سرکاری وفد امریکہ بھیجنے میں ناکام رہا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ میں آپ سے التجا کرتی ہوں کہ عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عافیہ ڈاکٹر فوزیہ عافیہ کی کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔