شوکاز نوٹسز سے تنگ آگیا ہوں، بانی نے نکالنا ہے تو نکال دیں ، شیر افضل مروت کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ میں روزانہ کے شوکاز نوٹسز سے بہت تنگ آگیا ہوں، بانی نے نکالنا ہے تو بےشک نکال دیں میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ ہر چھ ماہ بعد کوئی شوکاز آجاتا ہے کہ آپ نے یہ بیان دیا ہے۔ میں نے کوئی بیان نہیں بلکہ جواب دیا ہوتا ہے۔ اگر مجھے پارٹی میں رکھتے بھی ہیں تو میں جواب دیتا رہوں گا۔شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ کوئی سمجھتا ہے کہ وہ میرے خلاف بات کرے گا اور میں خاموش رہوں گا یہ ممکن نہیں۔ میں جس قبیلے سے ہوں وہ اپنے مرشد اپنے لیڈر کیلئے جان دینے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
قومی ایئر لائن کی پرواز میں فنی خرابی، دمام میں ہنگامی لینڈنگ
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی شک نہیں کہ بانی جن لوگوں کے نرغے میں ہے وہ ان کے کان بھر رہے ہیں، کچھ لوگ بانی پی ٹی آئی سے جاکر غلط بیانیاں کرتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ میں کل بیرسٹر گوہر کو اپنا مؤقف دے رہا ہوں، پارٹی کے لوگوں نے میرے خلاف بیانات دیے، اس کے بعد میں نے جواب دیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔