لاہور(نیوز ڈیسک) سال 2024 میں متعدد ٹک ٹاکرز کی نازیبا ویڈیوز نے سوشل میڈیا صارفین سمیت انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو چونکا دیا کیونکہ وہ ٹک ٹاکرز جن کے بارے گمان تک نہیں تھا کہ وہ ایسی ویڈیو اپلوڈ کریں گی، انسٹاگرام پر 40 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والی پاکستانی ٹک ٹاکر مس واؤ کی ویڈیو لیک ہوئی۔

ویڈیو لیک ہونے کا معاملہ ان مشہور شخصیات کی ایک کڑی ہے جن میں مناہل ملک اور امشا رحمان کے علاوہ کئی خواتین ٹک ٹاکرز شامل ہیں، ابھی تک اس لیک ویڈیو کی تصدیق نہیں ہو سکی لیکن یہ معاملہ ڈیجیٹل پرائیویسی اور آن لائن سیکورٹی کے بارے میں تشویش پیدا کر رہا ہے، ٹک ٹاکر کی جانب سے بھی کوئی بیان نہیں دیا گیا۔

مس واؤ جو اپنے شوہر اور بیٹی کے ساتھ پوسٹ کیے جانے والے مواد کی وجہ سے مشہور ہیں، وہ اس کے ویڈیو کے منظرعام پر آنے کی وجہ سے پریشان ہیں، سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو کو ’سلمی اختر‘ نامی فیس بک ’آئی ڈی‘ پر شیئر کیا گیا۔

واضح رہے کہ سال 2024 میں پاکستان کی کئی مشہور خواتین ٹک ٹاکرز کے ویڈیوز لیک ہونے کے واقعات پیش آئے، جنہوں نے سوشل میڈیا پر تنازعات اور تشویش پیدا کی۔سوشل میڈیا پر لیک ہونے والی لیک ویڈیوز کی وجہ سے جہاں ان خواتین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا وہیں مناہل ملک نے دعویٰ کیا کہ ان کے مداحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جس سے ان شبہات کو تقویت ملی کہ شاید شہرت کی خاطر بعض خواتین نے خود اپنی نازیبا ویڈیوز لیک کروائی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ٹک ٹاکرز

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل