غیر ملکیوں کو مکہ اور مدینہ میں سرمایہ کاری کی اجازت مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی حکومت نے غیر ملکیوں کو مکہ اور مدینہ میں رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کی اجازت دیدی،سعودی اسٹاک ایکسچینج میں درج ان سعودی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی اجازت ہو گی جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے شہروں کی حدود میں مستقل یا عارضی بنیادوں پر جائیداد رکھتی ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق اس بات کا اعلان کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی نے کیا جس نے غیر ملکیوں کی سرمایہ کاری کے لیے ضوابط پر عمل درآمد کو لازمی قرار دیا ہے۔ ان ضوابط کے تحت غیر ملکی افراد اور اداروں کی ملکیت مجموعی طور پر کمپنی کے شیئرزمیں 49 فیصد سے زیادہ کی سرمایہ کاری نہیں کرسکیں گے۔ علاوہ ازیں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سعودی کمپنیوں کے شیئرز میں سرمایہ کاری کرنے کی بھی اجازت ہوگی جو سعودی مالیاتی مارکیٹ میں رجسٹرڈ ہیں۔ سرمایہ کاری کی اجازت دینا سعودی عرب کی اقتصادی حکمت عملی اور ولی عہد کے وژن 2030 کا حصہ ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاری سے رئیل سٹیٹ کے شعبے کو مزید استحکام ملے گا۔ سعودی عرب مستقبل میں قریب میں سرمایہ کاروں کو مزید پرکشش مراعات بھی دے گا جس میں سیاحت کے شعبے بھی شامل ہیں۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری کی اجازت میں سرمایہ کاری کی سرمایہ
پڑھیں:
قومی ایئر لائن کے51 سے 100 فیصد شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ
قومی ایئر لائن کے51 سے 100فیصد شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
قومی ایئر لائن کی نج کاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کی درخواستیں طلب کر لی گئیں۔
نج کاری کے ذریعے قومی ایئر لائن کا مینجمنٹ کنٹرول بھی متوقع سرمایہ کار کو دیا جائے گا
قومی ایئر لائن کی نج کاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کی درخواستوں کی ڈیڈ لائن 3 جون 2025ء مقرر کی گئی ہے۔
اس حوالے سے نج کاری کمیشن کا کہنا ہے کہ قومی ایئر لائن کی نج کاری کے لیے سرمایہ کاروں کو مراعات دی جائیں گی، نئے جہاز خریدنے یا لیز پر لینے پر 18 فیصد جی ایس ٹی کی چھوٹ دی جائے گی۔
نج کاری کمیشن نے کہا ہے کہ قومی ایئر لائن کی بیلنس شیٹ میں شامل کچھ واجبات کی منتقلی بھی شامل ہے جبکہ بعض ٹیکسوں اور قانونی مقدمات پر تحفظ یا کوریج دی جائے گی