اسرائیل نے اپنے قیدیوں کی بازیابی کے بعد فلسطینی سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائی روک دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
اسرائیل نے غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے دوران احتجاج کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد فلسطینی سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائی روک دی ہے ۔
دی ٹائم آف اسرائیل کے مطابق اسرائیل نے یہ اقدام 8 یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے افراتفری پھیلانے اور احتجاج کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ایک ریڈیو نے پیغام جاری کیا ہے کہ اسرائیل کے اس فیصلے کا اطلاق ’تاحکم ثانی‘ برقرار رہے گا۔
ادھر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سیاسی جماعتوں نے فلسطین کے سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے لیے آپریشن تاحکم ثانی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ قیدی بسوں میں سوار تھے اور فیصلہ آنے پر رہائی منتظر تھے۔
ادھر جمعرات کو اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں قید 3 اسرائیلیوں، ایک مرد اور 2 خواتین اور پانچ تھائی شہریوں کی رہائی کی بھی تصدیق کی ہے جبکہ اسرائیل نے اس کے بدلے 30 بچوں سمیت 110 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔
ادھر مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے تممون میں اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 10 فلسطینی شہید ہوگئے جب کہ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ علاقے میں کارروائیوں میں بھی شدت پیدا کردی ہے۔
عرب ٹیلی ویژن کے مطابق 5 لاکھ سے زیادہ فلسطینی شمالی غزہ واپس پہنچ چکے ہیں جہاں لوگ غزہ میں داخل ہونے کے لیے مزید امداد کے منتظر ہیں۔
مقبوضہ مشرقی یروشلم، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) پر اسرائیل کی پابندی کا آغاز بھی جمعرات سے ہونا ہے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ پر اسرائیل بمباری کے نتیجے میں کم از کم 47,417 فلسطینی شہید اور 111,571 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس دن حماس کی زیر قیادت حملوں کے دوران اسرائیل میں کم از کم 1،139 افراد ہلاک ہوئے اور 200 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بمباری حماس رہائی عرب ٹیلی ویژن غزہ فلسطین فلسطینی سیکیورٹی قیدی قیدیوں کی رہائی معطل وی نیوز یرغمالی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رہائی فلسطین قیدیوں کی رہائی وی نیوز یرغمالی کی رہائی کے اسرائیل نے کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔