Express News:
2026-06-03@02:19:44 GMT

انڈیا کے مشہور ریئلٹی شو کیخلاف پولیس میں شکایت درج 

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT

ریئلٹی شو "انڈیا گوٹ ٹیلنٹ"، جس کی میزبانی سامے رائنا کر رہے ہیں، قانونی مسائل کا شکار ہو گیا ہے۔ 

یہ مسئلہ اُس وقت پیدا ہوا جب ایک کامیڈین جیسّی نبام، جو اروناچل پردیش سے تعلق رکھتی ہیں، نے ایک خصوصی قسط میں متنازعہ تبصرے کیے۔

سامے رائنا نے ایک اراکٹ میں جیسّی سے پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی کتے کا گوشت کھایا ہے، جس پر جیسّی نے جواب دیا کہ اروناچل پردیش کے لوگ کتے کا گوشت کھاتے ہیں، حالانکہ انہوں نے خود کبھی اس کا ذائقہ نہیں چکھا۔ 

جیسّی نے مزید کہا، "میں جانتی ہوں کیونکہ میرے دوست اسے کھاتے ہیں۔ وہ کبھی کبھار اپنے پالتو جانوروں کو بھی کھا لیتے ہیں"۔

اس بیان پر شو کے پینل میں موجود افراد نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ خاص طور پر کامیڈین بلراج سنگھ گھائی نے اس بات کی تصدیق پر سوال اٹھایا۔ اس تنازعے کے نتیجے میں اروناچل پردیش کے رہائشی ارمان رام ویلی بکھا نے FIR درج کرائی ہے، جس میں جیسّی نبام پر اس علاقے کے مقامی لوگوں کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ایف آئی آر 31 جنوری 2025 کو ایتاناگر پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ہے اور شکایت گزار نے فوری کارروائی کی درخواست کی ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات روکے جا سکیں۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا