اڈیالہ جیل میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو پیش کیا گیا، استغاثہ کے مزید گواہان کی شہادتیں ریکارڈ ہوئیں، استغاثہ نے ایف آئی اے، پی آئی ڈی، پیمرا اور انٹرنل سیکیورٹی ونگ کی رپورٹس پر مشتمل 118 سیٹ عدالت میں جمع کرادیے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی۔مقدمہ کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔

دوران سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا جب کہ راولپنڈی پولیس کی خصوصی ٹیم نے شاہ محمود قریشی کو کوٹ لکھ پت جیل سے لے کر آئے۔

بانی پی ٹی آئی کی فیملی اور وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں موجود رہے۔ فواد چوہدری، مسرت جمشید چیمہ، شبلی فراز بھی پیش ہوئے۔ عمر ایوب، شبلی فراز مسرت جمشید چیمہ، بیرسٹر علی ظفر، تیمور جھگڑا، مزمل اسلم بھی اڈیالہ جیل پہنچے۔

سماعت کے دوران استغاثہ کے مزید دو گواہان کی شہادت قلم بند ہوئی، تیسرے کی شہادت جزوی طور پر ریکارڈ ہوئی۔ مقدمہ میں مجموعی طور پر 15 گواہان کی شہادت ریکارڈ کی جاچکی ہیں جب کہ سولہویں کی جزوی ریکارڈ کی گئی۔

پراسیکیوٹر سید ظہیر شاہ نے کہا کہ پولیس کی جانب سے اضافی نقول کی کاپیوں کے 118 سیٹ عدالت میں جمع کرا دیئے گئے، اضافی نقول کا فی سیٹ برائے ایک ملزم 284 صفحات پر مشتمل ہے، پولیس نے کل 34 ہزار صفحات پر مشتمل 118 سیٹ عدالت میں جمع کروائے۔

اضافی نقول ایف آئی اے، پی آئی ڈی،  پیمرا اور انٹرنل سیکیورٹی ونگ کی رپورٹس پر مشتمل ہیں۔

سماعت بجلی کی بندش کے باعث ملتوی کردی گئی، ہفتے کے روز پی ٹی آئی احتجاج کی کال کے باعث اور ملزمان کی عدم حاضری کے پیش نظر سماعت بدھ تک ملتوی کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عدالت میں جمع اڈیالہ جیل

پڑھیں:

نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا۔

نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق  سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔

سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول  کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی  نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔

اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں  کر سکتی۔

آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک

مزید :

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملہ ناکام، 12 خوارج ہلاک، 15 اہلکار و سرکاری ملازم شہید
  • ٹانک میں دہشت گردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، 12 خوارج ہلاک، 15 جوان شہید
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا