آسیان سیاحتی گروپس کے لیےچین کے صوبہ یون نان کے سیاحتی علاقے کے لیے ویزا فری پالیسی کا نفاذ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
بیجنگ : چائنا نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسی روز سے آسیان ممالک کے سیاحتی گروپس کے لیے چین کے صوبہ یون نان کے شیشوانگ بننا علاقے میں داخلے کے لیے ویزا فری پالیسی نافذ کی جا رہی ہے۔ ملائیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن، سنگاپور، برونائی، ویتنام، لاؤس، میانمار اور کمبوڈیا پر مشتمل 10 آسیان ممالک کے سیاحتی گروپس جو 2 یا اس سے زائد افراد پر مشتمل ہوں، ان کے پاس عام پاسپورٹ ہوں اور چین میں ٹریول ایجنسیوں کےساتھ منسلک ہوں، وہ شیشوانگ بننا انٹرنیشنل ایئرپورٹ، موہان ریلوے اور ہائی وے کے ذریعے بغیر ویزا کے چین میں داخل ہو سکتے ہیں۔یہ سیاحتی گروپس صوبہ یون نان کے شیشیوانگ بننا کےعلاقے میں سفر اور 6 دن تک قیام کر سکتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں چائنا نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن امیگریشن مینجمنٹ کے شعبے میں ادارہ جاتی کھلے پن کو مزید گہرا کرنا جاری رکھے گا، سیاحت اور کاروبار کے لیے مزید غیر ملکیوں کو چین کی طرف راغب کرے گا، اندرون ملک سیاحتی منڈی کی ترقی میں نئی محرک قوت پیدا کرنا جاری رکھے گا اور ملک کے اعلیٰ معیار کے کھلے پن اور ترقی کے لیے مزید خدمات انجام دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔