امریکہ(نیوز ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 12 سے زائد امیگریشن ججز کو نوکریوں سے فارغ کردیا گیا۔یاد رہے کہ امریکی ریپبلکن اراکینِ کانگریس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے دو وفاقی ججز کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ میک کونل نے ٹرمپ حکومت کے وفاقی اخراجات منجمد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔امریکی میڈیا کے مطابق ججز کو بغیر پیشگی اطلاع جمعے کو برطرف کیا گیا، دو ری پبلکن ارکان نے صدر ٹرمپ مخالف ججز کے خلاف مواخذے کا بل لانے پر غور شروع کردیا، جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو محکمہ خزانہ کے ریکارڈ تک رسائی دینے سے روک دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اینڈریو کلائیڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ضلعی عدالت کے خلاف مواخذے کا بل زیرغور ہے جس میں جج جان جے میک کونل جانب دار ہیں۔اینڈریو کلائیڈ کا کہنا تھا کہ ضلعی عدالت عدالتی نظام کو ہتھیار بنا رہے ہیں۔ ری پبلکن رکن ایلی کرین نے کہا کہ گزشتہ رات اینڈریو کلائیڈ سے ججز کے مواخذے پر مشاورت کی، ایلون مسک بھی عدلیہ کے خلاف ری پبلکن مہم میں شامل ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق عدلیہ پر سیاسی دباؤ جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔

بھارتی ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اور سلیکٹرز میں تلخ کلامی کا انکشاف

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے خلاف

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا