پاکستان کے معروف اسلامی بینکوں میں سے ایک فیصل بینک لمیٹڈ (ایف بی ایل) نے کامیابی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے سال 2024ء کےلیے مستحکم مالیاتی نتائج کا اعلان کیا ہے، جو مستحکم کاروباری ماڈل اور آپریشنل مہارت کا عکاس ہے۔ ایک مکمل اسلامی بینک کی حیثیت سے اپنے دوسرے سال کے اختتام پر فیصل بینک کو 50.4 ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع (پی بی ٹی) ہوا، جو گزشتہ سال کے 41.

4 ارب روپے کے مقابلے میں 22 فیصد زائد ہے۔
بینک کا خالص منافع 23.0 ارب روپے تک پہنچ گیا۔اضافی انکم ٹیکس کے نفاذ کی وجہ سے ترقی 15 فیصد تک محدود رہی۔ فی حصص آمدن 13.21 روپے سے بڑھ کر 15.17 روپے پرجا پہنچی۔ اس مستحکم کارکردگی کی بناء پر بینک نے فی حصص2.5روپے یا 25فیصد حتمی نقد منافع کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح 2024ء میں مجموعی منافع 7.0روپےیا 70 فیصد ہو گیا ہے۔ مزید برآں بینک کے کُل اثاثے 1.6 ٹریلین روپے، ڈپازٹس 1 ٹریلین روپے سے زائد اور نیٹ فنانسنگ 634 ارب روپے رہی۔
بینک کا ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو(اے ڈی آر) 64.6 فیصد رہا ،جبکہ کیپٹل ایڈیکوسی ریشو (سی اے آر) 16.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو ریگولیٹری ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔
فیصل بینک کے چیئرمین میاں محمد یونس نے بینک کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ، "ماشاء اللہ 2024ء کےہمارے مالیاتی نتائج اُن مضبوط بنیادوں کی عکاسی کرتے ہیں جو ہم نے ایک معروف اسلامی بینک کی حیثیت سے بورڈ، مینجمنٹ اور ملازمین کے غیر متزلزل عزم کے ساتھ قائم کی ہیں۔” انہوں نے بینک کے صارفین کے مسلسل اعتماد اور شراکت داری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
فیصل بینک کے صدر اور سی ای او یوسف حسین نے کہا ،”الحمدللہ 2024ء میں ہماری مستحکم کارکردگی ہمارے صارفین پر مبنی نقطہ نظر کا ثبوت ہے۔ ہم بہترین خدمات کے ساتھ جدید شریعہ کمپلائنٹ مالیاتی اور ڈیجیٹل مصنوعات پیش کررہے ہیں ۔ان مضبوط بنیادی اصولوں کے ساتھ بینک ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے اور اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے اچھی پوزیشن پر ہے۔”
فیصل بینک کی شاندار مالیاتی کارکردگی اس کے مستحکم کاروباری بنیادی اصولوں، رسک مینجمنٹ کے دانشمندانہ طریقوں اور جدت پر توجہ مرکوز کرنے کی نشاندہی ہے۔ یہ اقدامات صنعت کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے بینک کی پوزیشن کو مزید مستحکم بناتی ہے۔ بینک اپنے شراکت کی پائیدار ترقی اور قدر فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

اشتہار

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: فیصل بینک ارب روپے بینک کی

پڑھیں:

حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا

دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔

سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی

حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان

وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم