التجا مفتی نے سیاسی مخالفین کی حمایت حاصل کرنے کیلئے دستخطی مہم شروع کی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
پی ڈی پی کی لیڈر نے کہا کہ لوگ اس وقت کو دیکھ رہے ہیں اور اگر وہ (این سی) اسمبلی میں بل کو مسترد کرتے ہیں تو یہ این سی کی ترجیحات اور حساسیت کے بارے میں بہت کچھ بتائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی لیڈر التجا مفتی نے ہفتے کے روز جموں و کشمیر میں شراب پر مکمل پابندی کے لئے حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک دستخطی مہم شروع کی اور سیاسی مخالفین سے تعاون طلب کیا۔ یہ اقدام جموں و کشمیر اسمبلی کے پہلے بجٹ اجلاس سے پہلے آیا ہے، جس میں پی ڈی پی اور حکمراں نیشنل کانفرنس (این سی) کے اراکین اسمبلی نے اپنے اپنے بل پیش کئے ہیں، اجلاس 3 مارچ سے جموں میں شروع ہوگا۔ التجا مفتی نے نیشنل کانفرنس، بھارتیہ جنتا پارٹی اور پیپلز کانفرنس سے حمایت مانگی جنہوں نے ایوان میں بل کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی نہیں سماجی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری نوجوانوں کو منشیات اور شراب کی طرف دھکیل رہی ہے۔ بہار، گجرات اور ناگالینڈ کا حوالہ دیتے ہوئے پی ڈی پی کی لیڈر نے جموں و کشمیر کو شراب پر پابندی والی ریاست بنانے کی وکالت کی۔
التجا مفتی نے کہا کہ اس کا سیاحت سے کوئی تعلق نہیں ہے، حکومت کو شراب کی فروخت سے ٹیکس اکٹھا کرنے کے بجائے ریونیو حاصل کرنے کے متبادل طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔ التجا مفتی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو بل پیش کرنے پر مجبور کیا گیا جب ان کی پارٹی کے ایک ایم ایل اے نے ایوان میں پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا۔ 82 ایم ایل اے نے اپنے بل پیش کئے ہیں۔ سرینگر میں پی ڈی پی ہیڈکوارٹر میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شراب اور منشیات کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ آگ کی طرح پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں بیداری لانا چاہتے ہیں اور ہمارے ایم ایل اے نے شراب پر پابندی کے لئے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا ہے۔
پہلے یہ پروگرام دفتر کے باہر شیر کشمیر پارک میں ہونا تھا لیکن جموں و کشمیر پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی۔ نوجوانوں میں منشیات اور شراب کی بڑھتی ہوئی لت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے معاشرے کے سماجی اور اخلاقی تانے بانے تباہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں شراب کی دکانوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور اب یہ آسانی سے دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عوام ہماری مہم کی حمایت کریں اور شراب پر پابندی کے بل پر ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے نیشنل کانفرنس پر الزام لگایا کہ وہ فاروق عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے دوران 1984ء میں شراب پر پابندی کے بل کو روک رہی تھی۔ سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے کہا کہ لوگ اس وقت کو دیکھ رہے ہیں اور اگر وہ (این سی) اسمبلی میں بل کو مسترد کرتے ہیں تو یہ این سی کی ترجیحات اور حساسیت کے بارے میں بہت کچھ بتائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ شراب پر پابندی نیشنل کانفرنس پابندی کے پی ڈی پی شراب کی بل پیش
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
فیفا ورلڈکپ 2026 نے باضابطہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں پہلی بار 48 ٹیمیں اور مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔
12 جون سے شروع ہونے والا یہ میگا ایونٹ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا جو ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلی بار تین ممالک میں منعقد ہو رہا ہے۔
اس بار ٹورنامنٹ کا فارمیٹ بھی پہلے سے بالکل مختلف ہے جہاں 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔
مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جس سے ایونٹ مزید طویل اور سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ورلڈکپ میں شامل 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی عالمی کپ کھیل چکے ہیں جبکہ 891 کھلاڑی پہلی بار اس بڑے اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔
مزید پڑھیںفیفا ورلڈکپ 2026 میں کیا نئی چیزیں متعارف ہوں گی؟
فیفا ورلڈکپ: میسی مسلسل چھٹے ورلڈکپ میں ارجنٹینا کی نمائندگی کیلیے تیار
فٹبال کے بڑے نام ایک بار پھر ایکشن میں ہوں گے جن میں لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور گیلرمو اوچوا شامل ہیں جو چھٹی مرتبہ ورلڈکپ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار چار نئے ممالک کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار ورلڈکپ کا حصہ بن رہے ہیں جس سے مقابلہ مزید غیر متوقع ہو گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس ایونٹ میں سب سے کم عمر کھلاڑی صرف 17 سال کا ہوگا جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کی عمر میں میدان میں اترے گا۔
مجموعی اسکواڈ میں 7 کھلاڑی 40 سال سے زائد عمر کے ہیں جبکہ 22 انڈر 20 پلیئرز بھی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کریں گے۔
فیفا ورلڈکپ 2026 نہ صرف تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہے بلکہ یہ فٹبال کی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔