گورنر، پارلیمانی وفد کی ملاقات، شکایات کے انبار حکومت کیساتھ چلنا مجبوری: زرداری
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+نامہ نگار) صدر مملکت آصف علی زرداری گزشتہ روز لاہور کے دورے پر گورنر ہاؤس پہنچے۔ صدر سے پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی۔ سید علی حیدر گیلانی نے پارلیمانی وفد کی قیادت کی۔ وفد نے صدر کو پنجاب میں درپیش سیاسی مسائل سے آگاہ کیا۔ صدر آصف زرداری سے گورنر پنجاب سلیم حیدر بھی ملے۔ صدر زرداری سے مخدوم احمد محمود نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت سے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی وفد اور رہنماؤں نے ن لیگ کے خلاف شکایات کے انبار لگا دئیے، پارلیمانی وفد نے صدر مملکت کو بتایا کہ انتظامی معاملات میں پیپلز پارٹی ارکان کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے معاملے میں بھی ترجیح نہیں دی جاتی۔ وفد نے صدر کو حلقوں کے مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا مجبوری ہے، جانتا ہوں تحریری معاہدے کے نکات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، پارلیمانی وفد بجٹ آنے تک مسائل حل ہونے کا انتظاز کرے۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے مخدوم ہاؤس لاہور میں سابق گورنر پنجاب، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم سید احمد محمود کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے میں شرکت کی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے سینئر نائب صدر خواجہ رضوان عالم، چیف کوآرڈینیٹر عبدالقادر شاہین، سابق وفاقی وزیر مخدوم مرتضیٰ محمود، مخدوم علی محمود، جاوید ڈھلوں، سید عرفان گردیزی، ملک ریاض حسین سامٹیہ، رانا محمد انتظار، راؤ ساجد علی، ملک رستم سمیت دیگر اہم رہنما بھی موجود تھے۔ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی، اقتصادی اور معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور مستقبل کے ممکنہ لائحہ عمل پر غور و خوض کیا گیا۔رہنماؤں نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی عدم استحکام، گورننس کے فقدان اور معاشی بدحالی کا شکار ہے۔جس کے فوری حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو حالیہ سیاسی بحران سے نکالنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارا وقت بہت کم ہے اور اگر ہم نے جلد از جلد مناسب حکمت عملی نہ اپنائی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اختلافات کو باہمی مشاورت اور مکالمے کے ذریعے حل کرنا ہوگا، اگر ہم سب مل کر آگے بڑھیں گے تو جمہوریت مضبوط ہوگی،ورنہ انتشار ہمارے قومی استحکام کو مزید کمزور کر دے گا۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ سب سے زیادہ اہمیت ملک اور قوم کے مفاد کو دینی ہے۔مخدوم احمد محمود نے اس موقع پر ملک میں بڑھتی ہوئی بیوروکریٹک کرپشن پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری محکموں میں بدعنوانی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ پٹواری سے لے کر کمشنر اور سیکریٹری سطح تک کرپشن تین گنا بڑھ چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ورکرز اور وزراء خود بیوروکریسی کے رویے سے نالاں ہیں اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شہباز شریف اور مریم نواز کو بیوروکریسی نے مائیکرو فنانس کے مسائل میں الجھا دیا ہے جبکہ میکرو فنانس کے اہم معاملات کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔حکومت تجاوزات کے خاتمے کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا چکی ہے جبکہ عام آدمی کے بنیادی مسائل پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔مخدوم احمد محمود نے خبردار کیا کہ پنجاب میں گندم کی فصل کے حوالے سے ایک نیا بحران پیدا ہونے والا ہے،جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔بچت کے نام پر عوام کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا گیا ہے،لیکن دوسری طرف اشرافیہ کو مفت بجلی، گیس اور دیگر مراعات دی جا رہی ہیں۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بدعنوانی، غیر منصفانہ پالیسیوں اور بیوروکریسی کے بے جا اثر و رسوخ سے ملک کو نجات دلانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی مسائل کے حل کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پارلیمانی وفد گورنر پنجاب پیپلز پارٹی صدر مملکت وفد نے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.