UrduPoint:
2026-07-24@13:47:52 GMT

شام: متحارب گروہوں میں لڑائی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ

اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT

شام: متحارب گروہوں میں لڑائی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 27 فروری 2025ء) اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے شام کے شمال مغربی علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں لڑائی اب بھی جاری ہے جہاں رسائی میں مشکلات حائل ہیں۔

ادارے کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ترکیہ سے امدادی قافلوں کی شام کے شہر ادلب میں آمد جاری ہے۔

گزشتہ روز 1,000 میٹرک ٹن سے زیادہ خوراک، کمبل، شمسی لیمپ اور دیگر سامان لے کر 43 ٹرک علاقے میں داخل ہوئے۔ یہ امداد عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بھیجی تھی۔

رواں سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 400 ٹرک امدادی سامان لے کر شام میں آ چکے ہیں جو گزشتہ سال اسی عرصہ کے مقابلے میں پانچ گنا بڑی تعداد ہے۔

(جاری ہے)

تعمیرنو اور بحالی کے اقدامات

ترجمان نے بتایا کہ امدادی ادارے ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیرنو اور ضروری خدمات کی بحالی کے لیےکام کر رہے ہیں۔ شمال مغربی علاقے میں گزشتہ ماہ سے 350 گھروں کی بحالی عمل میں آ چکی ہے جبکہ دمشق اور ملحقہ دیہی علاقوں میں 700 سے زیادہ لوگوں کواپنے گھروں کی تعمیرومرمت کے لیے مدد دی گئی ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران لاطاکیہ میں پانی کی فراہمی کے دو مراکز کو بحال کیا گیا ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگوں کو صاف پانی میسر آیا ہے۔

جب اور جہاں سلامتی کے حالات اجازت دیں اور مالی وسائل میسر ہوں وہاں اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار لوگوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں تاہم امدادی وسائل کے مقابلے میں ضروریات بہت زیادہ ہیں۔

حلب میں 34 تعلیمی و طبی سہولیات اور دیگر ضروری خدمات فراہم کرنے والی تنصیبات کو سخت نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں جنہیں فوری طور پر بحالی کی ضرورت ہے۔

امداد کی رسائی میں رکاوٹیں

ترجمان نے بتایا کہ شام کے متعدد علاقوں میں لڑائی اب بھی جاری ہے جہاں مسلح گروہ اپنا تسلط جمانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان حالات میں عام شہری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں امداد کی رسائی محدود ہو گئی ہے۔

مشرقی حلب میں تشرین ڈیم اور پانی کی فراہمی کے الخفسہ مرکز اور ملک کے جنوبی علاقوں میں لڑائی کے نتیجے میں انسانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ امدادی رسائی اور لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہیں۔

10 لاکھ پناہ گزینوں کی واپسی

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر کے آغاز میں سابق صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہونے کے بعد 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر شامی شہری اپنے علاقوں میں واپس آ گئے ہیں۔

ان میں 292,150 لوگوں نے شام کے ہمسایہ ممالک ترکیہ، لبنان، اردن، عراق اور مصر سے واپسی اختیار کی ہے۔

ان کے علاوہ اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے 829,490 لوگ بھی واپس آئے ہیں۔ ادارہ ایسے لوگوں کو قانونی مشاورت اور نقل وحمل میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

'یو این ایچ سی آر' نے بتایا ہے کہ ادارہ واپس آنے والے پناہ گزینوں کو زندگی بحال کرنے میں بھی مدد دے رہا ہے۔ شدید سردی کے مہینوں میں اور بجلی کی قلت کے پیش نظر لوگوں کو گرم کپڑے، پناہ گاہیں مرمت کرنے کا سامان اور دیگر امداد مہیا کی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے علاقوں میں میں لڑائی نے بتایا لوگوں کو جاری ہے شام کے کے لیے

پڑھیں:

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 جولائی ۔2026 ) پاکستان میں بجلی تقسیم کار کمپنیوںکی جانب سے صرف ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف سامنے آیا ہے قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی رپورٹ گیا ہے ‘اجلاس یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کی مد میں ایک ارب6کروڑ روپے کا فراڈ کیا گیا جس میں سے صرف13کروڑ روپے کی ریکوری ہوسکی ہے.

اجلاس کو بتایا گیاکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے (ڈسکوز)کی جانب سے جان بوجھ کر اوورریڈنگ کی اور غیرقانونی طورپر سب سے اضافی بلنگ لاہور الیکٹرک کمپنی لیسکو نے کی جو45ارب روپے ہے.

(جاری ہے)

آڈیٹرجنرل آفس کے حکام نے سیکرٹری پاورڈویژن کی جانب سے صارفین سے اووربلنگ کی مد میں حاصل کی جانے والی47ارب81کروڑ روپے کی واپسی کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہاکہ ”ڈسکوز“کی جانب سے صرف انہی صارفین کو اووربلنگ کی رقم واپس کی جاتی ہے جو اس کے لیے درخواست دیتے ہیں اور کمپنیوں کی جانب سے اووربلنگ کی واپسی کا عمل پچیدہ‘طویل اور جانبدار ہونے کی وجہ سے صارفین کی بہت کم تعداد اضافی رقم کی واپسی کے لیے ”ڈسکوز“سے رجوع کرتی ہے‘رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے بطور ریگولیٹری اتھارٹی ”نیپرا“اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور اتھارٹی نے صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے تقسیم کار کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کیا‘رپورٹ میں ”نیپرا“اور پاورڈویژن کے کردار پر بہت سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے مجموعی طور پر ”ڈسکوز“نے90کروڑ40لاکھ یونٹ کی اووربلنگ کی گئی‘ اجلاس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130 گھوسٹ ملازمین کے ناموں پرایک ارب چھ کروڑ نکلوایا گیا کمپنی نے جواب میں بتایا کہ گھوسٹ ملازمین کے معاملے میںملوث تین اکاﺅنٹس افسر اورایک فناس ڈیپارٹمنٹ کے افسر کو برطرف کردیاگیا ہے ‘ان ملازمین کے خلاف مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں کمپنی نے بتایا کہ اب تک 13کروڑ کی جاچکی ہے.

پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے تمام ڈسکوزکے ملازین کی تنخواہیں ڈیجٹل طریقے سے ادا کرنے سے ہدایت سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ پاورڈویژن دو تقسیم کارکمپنیوں کوئٹہ الیکٹرک کمپنی اور ٹرائبل ایریا الیکٹرک کمپنی کے علاوہ باقی تمام ”ڈسکوز“کی مرحلہ وار نجکاری کرنے جارہی ہے . آڈٹ حکام کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے اپنی نااہلی، لائن لاسز اور بجلی چوری کو چھپانے کے لیے عوام کی جیبوں پر 47 ارب 81 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈالا‘ بجلی کمپنیوں نے میٹر ریڈنگ میں ہیرا پھیری اور اوور بلنگ کے ذریعے صرف ایک ماہ کے اندر 2 لاکھ 78 ہزار 649 صارفین سے یہ خطیر رقم چھینی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈسکوز نے دانستہ طور پر غلط اور زائد میٹر ریڈنگ کر کے صارفین کو کروڑوں اضافی یونٹس کے بل بھیجے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے اپنے ٹیکنیکل نقصانات (لائن لاسز) اور بجلی چوری کا خسارہ پورا کرنے کے لیے عام شہریوں پر اضافی لوڈ ڈال دیا ‘آڈٹ حکام کا کہنا ہے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے 45 ارب روپے کی اوور بلنگ کا اعتراف کیاہے اسی طرح پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بھی میٹرریڈنگ میں ہیراپھیری کا اعتراف کیا ہے .

حکام نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ایک سال کے دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور بجلی چوری کی وجہ سے مجموعی طور پر 472 ارب روپے کا نقصان ہوا جس میں 265 ارب روپے ترسیل و تقسیم اور 207 ارب روپے بلوں کی کم وصولی کی وجہ سے ڈوب گئے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”ڈسکوز“میں اربوں روپے ماہانہ کی ہیراپھیریوں میں ان کمپنیوں کے سربراہان اور اعلی افسران سے لے کر نچلے درجے کے ملازمین شامل ہوتے ہیں‘لیسکو کی جانب سے رواں سال جون اور جولائی کے مہنیوں میں اربوں روپے کی اووربلنگ کی ہے تاہم اس کی آڈٹ رپورٹ 2027میں سامنے آئے گی.

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے بلنگ امورسے متعلق شعبے کے ایک سابق اعلی افسرنے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ ”ڈسکوز“سب سے زیادہ اووربلنگ گرمیوں کے تین مہینوں جون‘جولائی اور اگست میں کرتی ان مہینوں میں صارفین بجلی کا زیادہ استعمال کررہے ہوتے ہیں اس لیے اکثریت اس ڈاکے پر دھیان نہیں دیتی‘ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ گرمیوں کے ان تین مہینوں کے دوران ڈویژن کی سطح پر ”ٹارگٹ“مقرر کیئے جاتے ہیں جہاں سے سب ڈویژن کے ذریعے میٹرریڈرزکو بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کتنے اضافی یونٹس صارفین کے کھاتے میں ڈالنا ہیں‘انہوں نے کہاکہ یہ سلسلہ نیا نہیں ہے اب یہ اس لیے نوٹس کیا جارہا ہے کہ بجلی قیمتیں اور ٹیکس غیرمعمولی حد تک بڑھ چکے ہیں اس لیے چند اضافی یونٹس بھی ریکارڈ پر آجاتے ہیں. 

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ