سن 2004 میں یش چوپڑا نے ویر زارا کے ساتھ ہدایتکاری کی دنیا میں واپسی کی، جو ہندوستان اور پاکستان کے پس منظر پر مبنی ایک محبت کی کہانی ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں اس فلم کیلئے پہلے اجے اور کاجول کو کاسٹ کرنے کی تجویر دی گئی تھی۔

ویر زارا میں شاہ رخ خان کو بھارتی فضائیہ کے افسر ویر پرتاپ سنگھ اور پریتی زنٹا نے پاکستانی لڑکی زارا حیات خان کا کردار ادا کیا تھا۔ اس سرحد پار رومانس نے شائقین کے دلوں پر قبضہ کر لیا اور یہ فلم دنیا بھر سے 105 کروڑ روپے کما کر ایک بلاک بسٹ ثابت ہوئی۔ 

اطلاعات کے مطابق یش چوپڑا آدتیہ چوپڑا کی بلاک بسٹر فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گے  میں کامیاب جوڑی کے طور پر اُبھرنے کے بعد شاہ رخ خان اور کاجول کو ایک ساتھ کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔ تاہم  کاجول نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کردار سے انکار کر دیا اور فلم بالآخر پریتی زنٹا کے مقدر میں آ گئی۔

فلم ویر زارا میں رانی مکھرجی نے پاکستانی وکیل سمیعہ صدیقی کا معاون کردار ادا کیا تھا۔ یش چوپڑا شروع میں اس کردار کے لیے ایشوریہ رائے کو کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اس وقت سلمان خان کے ساتھ ان کے خراب تعلقات اور سیٹ پر ان کی مسلسل مداخلت کی وجہ سے انہیں چلتے چلتے اور ویر زارا کو چھوڑنا پڑا، اور ان کی جگہ رانی مکھرجی نے دونوں فلموں میں لے لی۔

منوج باجپائی نے یش چوپڑا کی اس روم کام ویر زارا میں زارا کے منگیتر رضا شیرازی کا ایک چھوٹا کردار بھی ادا کیا۔ لیکن، یہ کردار سب سے پہلے اجے دیوگن کو آفر کیا گیا تھا۔ تاہم اجے نے بھی اسے مسترد کر دیا، کیونکہ وہ اپنے ہم عصر شاہ رخ خان کے مقابل مہمان کے کردار میں نظر نہیں آنا چاہتے تھے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یش چوپڑا ویر زارا

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گھر کے شیر باہر ڈھیر، ویمنز ٹیم ٹرائنگولر سیریز میں مشکلات کا شکار
  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟