UrduPoint:
2026-07-24@03:30:52 GMT

نیوکلیئر مواد کی سمگلنگ میں تشویشناک اضافہ، ائی اے ای اے

اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT

نیوکلیئر مواد کی سمگلنگ میں تشویشناک اضافہ، ائی اے ای اے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 03 مارچ 2025ء) جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ گزشتہ سال جوہری یا دیگر تابکار مواد سے متعلق غیرقانونی یا بلا اجازت سرگرمیوں کے واقعات میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا، تاہم جوہری مواد کی سمگلنگ اور تابکاری پھیلنے کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویشناک ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ 2024 میں غیرقانونی جوہری سرگرمیوں کے واقعات کی تعداد 150 سے کم رہی جو 2023 میں پیش آنے والے ایسے واقعات کے تقریباً برابر تھی۔

لیکن اس کی سمگلنگ اور جوہری آلودگی پھیلنے کے واقعات نے ایسے مواد کے تحفظ کی بابت سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ Tweet URL

گزشتہ سال ایسے تین واقعات کا براہ راست تعلق جوہری مواد کی سمگلنگ یا بدنیتی پر مبنی اقدامات سے تھا۔

(جاری ہے)

تاہم یہ تعین نہیں ہو سکا کہ آیا اس میں مجرمانہ عنصر شامل تھا یا نہیں۔ ایسے بیشتر واقعات منظم جرائم کی ذیل میں نہیں آتے تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جوہری مواد کے غلط ہاتھوں میں جانے کا کوئی ایک واقعہ بھی دنیا کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔تابکار اشیا کی نشاندہی

'آئی اے ای اے' کے مطابق، گزشتہ سال جوہری آلودگی کے واقعات میں پریشان کن اضافہ دیکھا گیا جو استعمال شدہ پائپوں یا جوہری تنصیبات کے دھاتی حصوں کے انجانے میں سپلائی چین میں شامل ہونے سے پیش آئے۔

ادارے میں جوہری تحفظ کے شعبے کی ڈائریکٹر ایلینا بوگلووا نے کہا ہے کہ ایسے واقعات سے بعض ممالک میں تابکار اشیا کی غیرمجاز تلفی کو روکنے کے حوالے سے درپیش مسائل اور تابکار مواد کی نشاندہی کے نظام کی استعداد کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔

جوہری مواد کی منتقلی اور خطرات

جوہری تحفظ کے معاملے میں تابکار مواد کی منتقلی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

گزشتہ دہائی میں ایسے مواد کی چوری کے 65 فیصد واقعات اس کی منتقلی کے دوران پیش آئے۔

جوہری اور تابکار مواد کو ادویات، صںعت اور سائنسی تحقیق کے لیے استعمال میں لانے کے لیے باقاعدگی سے ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے جس سے اس کی چوری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ اس عمل کے دوران بہت سے حفاظتی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں لیکن ان کی سکیورٹی کے حوالے سے اب بھی کئی طرح کی خامیاں پائی جاتی ہیں۔

ماہرین نے جوہری اور تابکار مواد کی منتقلی کے دوران مضبوط حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ اسے گم یا چوری ہونے سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ، سپلائی چین میں مناسب سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو بڑھانا بھی ضروری ہے۔

مضبوط تحفظ پر زور

جوہری مواد کی نگرانی اور اسے تحفظ دینے میں 'آئی اے ای اے' کا کلیدی کردار رہا ہے۔

گزشتہ سال ادارے کے 145 میں سے 32 رکن ممالک نے جوہری تحفظ کے حوالے سے اپنی رپورٹیں جمع کرائیں جس سے جوہری تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے متواتر کوششوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

ایلینا بوگلووا کا کہنا ہے کہ رکن ممالک کی جانب سے گزشتہ 30 سال سے ایسی رپورٹیں جمع کرائی جا رہی ہیں جس سے جوہری مواد کی سمگلنگ کے خلاف عالمگیر کوششوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔

'آئی اے ای اے' نے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری مواد کی سلامتی کو بہتر بنائیں اور خاص طور پر اس کی منتقلی، اس کے صنعتی استعمال اور تلفی کے حوالے سے موثر اقدامات اٹھائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مواد کی سمگلنگ جوہری مواد کی تابکار مواد آئی اے ای اے کے حوالے سے اور تابکار جوہری تحفظ گزشتہ سال کی منتقلی کے واقعات کے لیے

پڑھیں:

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ

اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔

حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل