UrduPoint:
2026-06-02@23:25:30 GMT

نیوکلیئر مواد کی سمگلنگ میں تشویشناک اضافہ، ائی اے ای اے

اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT

نیوکلیئر مواد کی سمگلنگ میں تشویشناک اضافہ، ائی اے ای اے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 03 مارچ 2025ء) جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ گزشتہ سال جوہری یا دیگر تابکار مواد سے متعلق غیرقانونی یا بلا اجازت سرگرمیوں کے واقعات میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا، تاہم جوہری مواد کی سمگلنگ اور تابکاری پھیلنے کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویشناک ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ 2024 میں غیرقانونی جوہری سرگرمیوں کے واقعات کی تعداد 150 سے کم رہی جو 2023 میں پیش آنے والے ایسے واقعات کے تقریباً برابر تھی۔

لیکن اس کی سمگلنگ اور جوہری آلودگی پھیلنے کے واقعات نے ایسے مواد کے تحفظ کی بابت سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ Tweet URL

گزشتہ سال ایسے تین واقعات کا براہ راست تعلق جوہری مواد کی سمگلنگ یا بدنیتی پر مبنی اقدامات سے تھا۔

(جاری ہے)

تاہم یہ تعین نہیں ہو سکا کہ آیا اس میں مجرمانہ عنصر شامل تھا یا نہیں۔ ایسے بیشتر واقعات منظم جرائم کی ذیل میں نہیں آتے تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جوہری مواد کے غلط ہاتھوں میں جانے کا کوئی ایک واقعہ بھی دنیا کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔تابکار اشیا کی نشاندہی

'آئی اے ای اے' کے مطابق، گزشتہ سال جوہری آلودگی کے واقعات میں پریشان کن اضافہ دیکھا گیا جو استعمال شدہ پائپوں یا جوہری تنصیبات کے دھاتی حصوں کے انجانے میں سپلائی چین میں شامل ہونے سے پیش آئے۔

ادارے میں جوہری تحفظ کے شعبے کی ڈائریکٹر ایلینا بوگلووا نے کہا ہے کہ ایسے واقعات سے بعض ممالک میں تابکار اشیا کی غیرمجاز تلفی کو روکنے کے حوالے سے درپیش مسائل اور تابکار مواد کی نشاندہی کے نظام کی استعداد کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔

جوہری مواد کی منتقلی اور خطرات

جوہری تحفظ کے معاملے میں تابکار مواد کی منتقلی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

گزشتہ دہائی میں ایسے مواد کی چوری کے 65 فیصد واقعات اس کی منتقلی کے دوران پیش آئے۔

جوہری اور تابکار مواد کو ادویات، صںعت اور سائنسی تحقیق کے لیے استعمال میں لانے کے لیے باقاعدگی سے ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے جس سے اس کی چوری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ اس عمل کے دوران بہت سے حفاظتی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں لیکن ان کی سکیورٹی کے حوالے سے اب بھی کئی طرح کی خامیاں پائی جاتی ہیں۔

ماہرین نے جوہری اور تابکار مواد کی منتقلی کے دوران مضبوط حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ اسے گم یا چوری ہونے سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ، سپلائی چین میں مناسب سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو بڑھانا بھی ضروری ہے۔

مضبوط تحفظ پر زور

جوہری مواد کی نگرانی اور اسے تحفظ دینے میں 'آئی اے ای اے' کا کلیدی کردار رہا ہے۔

گزشتہ سال ادارے کے 145 میں سے 32 رکن ممالک نے جوہری تحفظ کے حوالے سے اپنی رپورٹیں جمع کرائیں جس سے جوہری تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے متواتر کوششوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

ایلینا بوگلووا کا کہنا ہے کہ رکن ممالک کی جانب سے گزشتہ 30 سال سے ایسی رپورٹیں جمع کرائی جا رہی ہیں جس سے جوہری مواد کی سمگلنگ کے خلاف عالمگیر کوششوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔

'آئی اے ای اے' نے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری مواد کی سلامتی کو بہتر بنائیں اور خاص طور پر اس کی منتقلی، اس کے صنعتی استعمال اور تلفی کے حوالے سے موثر اقدامات اٹھائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مواد کی سمگلنگ جوہری مواد کی تابکار مواد آئی اے ای اے کے حوالے سے اور تابکار جوہری تحفظ گزشتہ سال کی منتقلی کے واقعات کے لیے

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد