اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس کی سماعت کے دوران پارٹی کے اندرونی معاملات چلانے کے حوالے سے سوالات سامنے آ گئے۔الیکشن کمشن  میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی کمشن  نے کی جس میں بیرسٹر گوہر، اکبر ایس بابر اور دیگر الیکشن کمشن  میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت ممبر کے پی نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے اندر کے معاملات کون چلا رہا ہے؟ میڈیا میں سلمان اکرم راجا کا نام آ تا ہے، وہ پارٹی میں کیا ہیں؟ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات متنازع ہیں۔بیرسٹر گوہر نے اس موقع پر بتایا کہ ہم صرف انڈور مینجمنٹ کے تحت معاملات چلا رہے ہیں، جب آپ سرٹیفکیٹ دیں گے تو پھر معاملہ حل ہو گا۔ممبر الیکشن کمشن  نے کہا کہ ہائیکورٹ سے حکم امتناع ختم کرائیں جس پر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ اس کیس کی کارروائی کے حوالے سے کوئی حکم امتناع نہیں۔ممبر الیکشن کمشن  نے کہا کہ یہ کیس ٹرائل تو ہے نہیں، یہ ممکن نہیں کہ اس پر فیصلہ محفوظ کر کے عدالتی فیصلے کا انتظار کریں، جو دستاویزات آپ نے دی ہیں وہ مکمل نہیں۔اکبر ایس بابر نے اس موقع پر کہا کہ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے، الیکشن کمشن  نے بھی سپریم کورٹ میں انٹرا پارٹی الیکشن کومتنازع قرار دیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمشن  آج ہی اس پر فیصلہ سنائے۔بعد ازاں الیکشن کمشن  آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس کی آئندہ سماعت 8 اپریل تک ملتوی کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی انٹرا پارٹی انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن کمشن کیس کی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق