کیا رواں برس پاکستان میں فائیو۔جی کی نیلامی ممکن ہوپائے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
ملک کے صارفین کو فائیو۔جی استعمال کرنے کے حوالے سے ممکنہ طور پر ابھی کچھ اور عرصہ انتظار کرنا ہوگا۔ کیوں کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق فائیو۔جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے سلسلے میں چند مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کے لیے مشاورت کا عمل مکمل کر لیا ہے۔
پی ٹی اے کی جانب سے فائیو۔جی نیلامی میں مشکلات بیان کے بعد مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس سال 5 جی نیلامی ہونا ناممکن ہے۔ دوسری جانب کچھ افراد کا یہ کہنا ہے کہ رواں برس فائیو۔جی نیلامی ہو جائے گی۔ اس صورتحال کی وجہ سے بہت سے شک و شبہات پیدا ہو چکے ہیں۔
ان شک و شبہات کو دور کرنے کے لیے وی نیوز نے جاننے کی کوشش کی کہ کیا رواں برس فائیو۔جی نیلامی ممکن ہو پائے گی؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پی ٹی اے ذرائع نے وی نیوز کو بتایا کہ رواں برس کی فائیو۔جی نیلامی ہو جائے گی جس کی تیاریاں تقریباً آخری مراحل میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ہم اپنے شیڈول کے مطابق چل رہے ہیں اور جون 2025 کے وسط تک فائیو۔جی کی نیلامی مکمل ہو جائے گی۔ نیلامی ہمارے شیڈول کے مطابق مئی کے وسط تک ہوجائے گی لیکن اس کے بعد ایک مہینے کا وقت دیا جاتا ہے جس میں لائسنسنگ اور جو بینڈ وڈتھ انہوں نے سائن کی ہوتی ہے، اس کا سامان امپورٹ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں برس کے آخر اور 2026 کے شروع میں کمرشل سروسز بھی شروع ہو جائیں گی۔
کہا جا رہا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان انضمام کے معاہدے کی عدم تکمیل اور قانونی پیچیدگیاں فائیو جی کے آغاز میں تاخیر کا باعث بن رہی ہیں، لیکن اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ انہیں کوئی واضح اشارے دے دیں تاکہ وہ آکشن کے رولز طے کر لیں اور انہیں علم ہو کہ کتنے آکشن پلئیرز ہونگے۔ باقی پی ٹی اے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور گورنمنٹ بھی تعاون کر رہی ہے۔ پی ٹی اے کی تیاریاں حتمی مراحل میں ہیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی اے نے ٹیلی کام مارکیٹ اسسمنٹ مکمل کرلی ہے اور ٹیلی کام ریفارمز پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ نیلامی کا عمل اسپیکٹرم کی قیمت اور نیلامی کے ڈیزائن کی اسٹیج تک پہنچ گیا ہے۔ ایڈوائزری کمیٹی ایک ماہ میں پالیسی سفارشات حکومت کو بھیجے گی، جس کے بعد حکومت پالیسی ڈائریکٹیو جاری کرے گی۔
پی ٹی اے کی جانب سے فائیو۔جی نیلامی کے حوالے سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق، 2600 میگا ہرٹس، 2100 میگا ہرٹس اور 1800 میگا ہرٹس کے کیسز عدالتوں میں زیر التواء ہیں، جنہیں جلد حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فائیو جی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کی لاگت اور فائیو جی ڈیوائسز کی دستیابی بھی چیلنجز ہیں۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود، پی ٹی اے پرامید ہے کہ فائیو جی پاکستان میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی کے آنے سے ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور بہتر سروس کی بہتر کوالٹی میسر ہوگی۔ یہ نہ صرف آئی ٹی سروسز کی فراہمی کی بنیاد رکھے گا بلکہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اور جی ڈی پی میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
5g internet.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فائیو جی نیلامی نیلامی کے کی نیلامی رواں برس حوالے سے کے مطابق پی ٹی اے کے لیے
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔