بھارت کی معروف گلوکارہ کی خودکشی کی کوشش؛وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
حیدر آباد(نیوز ڈیسک)بھارت کی 44 سالہ معروف گلوکارہ کلپنا راگویندر نے خودکشی کی کوشش کی جس کے بعد ان کی حالت تشویشناک ہے۔
بھارتی شہر حیدرآباد میں رہائش پذیر گلوکارہ دو دن گھر سے باہر نہ آئیں تو سکیورٹی اور پڑوسیوں نے پولیس کو آگاہ کیا۔پولیس دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہوئی تو گلوکارہ کو بے ہوش پایا جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔
گلوکارہ کی حالت تشویشناک ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کلپنا نے خواب آور گولیوں کی بڑی مقدار کھا کر خودکشی کی کوشش کی اور وہ گھر میں اکیلی تھیں۔گلوکارہ کے شوہر بھی واقعے کی اطلاع ملتے ہی چنئی سے حیدرآباد پہنچ گئے۔ پولیس نے گلوکارہ کی خودکشی کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی ہیں اور ان کے شوہر سے بھی تفتیش کی۔بھارت کی مقامی زبانوں تمل اورتیلگو کی گلوکارہ کلپنا بھارت کے مشہور گلوکار ٹی ایس راگویندر کی بیٹی بھی ہیں، انہوں نے کیرئیر کا آغاز ہی 5 سال کی عمر میں کیا۔گلوکارہ نے کیرئیر میں 1500 سے زائد گیت گائے اور بھارت سمیت دنیا بھر میں 3000 شوز کیے۔ انہوں نے الائیاراجا اور اے آر رحمان کے ساتھ بھی کام کیا جبکہ کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔
مزیدپڑھیں:اداکارہ دیبینا بنرجی سات ماہ میں دو بار ماں بن گئیں، ٹرولنگ کا سامنا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔