امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کی کچھ درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف اور کینیڈا سے کچھ درآمدات کو ایک ماہ کے لیے ملتوی کردیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے احکامات پر دستخط کرنے سے پہلے کہا کہ میکسیکو اور کینیڈا پر ٹیرف کو 2 اپریل تک مؤخر کیا گیا ہے، 2 اپریل امریکی تاریخ کا اہم دن ہوگا۔ کینیڈا اور بھارت ہماری مصنوعات پر سب سے زیادہ ٹیکس لگاتے ہیں۔

ٹرمپ کا اصرار ہے کہ تجارتی خسارے کو طے کرکے ٹیرف کو حل کیا جاسکتا ہے، انہوں نے اوول آفس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی 2 اپریل سے شروع ہونے والے باہمی محصولات عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا اصرار ہے کہ ٹیرف فینٹینائل اسمگلنگ کو روکنے کے لیے ہے لیکن ٹرمپ کے تجویز کردہ ٹیکسوں نے شمالی امریکا کی دہائیوں پرانی تجارتی شراکت داری میں خلل ڈالا جبکہ اسٹاک مارکیٹ کو ڈوبنے اور امریکی صارفین کی گھبراہٹ کا سبب بھی بنایا۔

مزید پڑھیں: چین کا امریکا کی مسلط کردہ ’ٹیرف وار‘ آخر تک لڑنے کا اعلان

میکسیکو سے درآمدات جو 2020 USMCA تجارتی معاہدے کی تعمیل کرتی ہیں، ٹرمپ کے دستخط کردہ احکامات کے مطابق، ایک ماہ کے لیے 25 فیصد ٹیرف سے خارج کر دی جائیں گی۔ کینیڈا سے آٹو سے متعلقہ درآمدات جو تجارتی معاہدے کی تعمیل کرتی ہیں وہ بھی ایک ماہ کے لیے 25 فیصد ٹیرف سے بچیں گی، جبکہ پوٹاش جو امریکی کسان کینیڈا سے درآمد کرتے ہیں اس پر 10 فیصد ٹیرف لگے گا۔

کینیڈا سے قریباً 62 فیصد درآمدات کو اب بھی نئے محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ USMCA کے مطابق نہیں ہیں۔ میکسیکو سے آدھی درآمدات جو USCMA کے مطابق نہیں ہیں ان پر بھی ٹرمپ کے دستخط شدہ احکامات کے تحت ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: کینیڈا اور میکسیکو سے ٹیرف ڈیل ممکن نہیں آج سے نفاذ ہوگا، صدر ٹرمپ

ادھر کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈا کے تمام جوابی اقدامات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک امریکا اپنے محصولات کو مکمل طور پر واپس نہیں لیتا۔ کینیڈا کے وزیر خزانہ ڈومینک لی بلینک نے کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ کچھ کم ٹیرف رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں بلکہ کینیڈا ٹیرف کو ہٹانا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا کی جانب سے کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد ٹیرف 4 مارچ سے نافذ ہونا شروع ہوا تھا تاہم اب اسے ایک ماہ کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ٹیرف جسٹن ٹروڈو ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا میکسیکو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ٹیرف جسٹن ٹروڈو ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا میکسیکو ایک ماہ کے لیے کینیڈا اور کینیڈا سے فیصد ٹیرف کے مطابق

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل