Nawaiwaqt:
2026-07-24@02:14:03 GMT

عیدالفطر پر پاکستانیوں کو کتنی چھٹیاں ملیں گی

اشاعت کی تاریخ: 7th, March 2025 GMT

عیدالفطر پر پاکستانیوں کو کتنی چھٹیاں ملیں گی

اسلام آباد : پاکستان میں عیدالفطر کے موقع پر طویل چھٹیاں ملنے کا امکان ہے .تاہم حتمی اعلان حکومت کی جانب سے کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق رویت ہلال کمیٹی نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال رمضان المبارک 29 دن تک جاری رہے گا اور عید الفطر 31 مارچ 2025 کو منائی جائے گی۔کمیٹی نے بتایا کہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں 30 مارچ کی شام کو عید کا چاند نظر آنے کا امکان ہے، اس وقت چاند کی عمر 26 گھنٹے ہوگی.

جس کے باعث چاند نظر آنے کے امکانات روشن ہے۔چونکہ عام طور پرعید کی چھٹیوں کا آغاز عید سے ایک روز قبل ہوتا ہے. اگر عیدالفطر 31 مارچ بروز پیر ہوتی ہے تو   عید کی چھٹیاں پیر سے شروع ہوں گی۔

چونکہ ہفتہ اور اتوار پہلے ہی تعطیلات ہیں، اس لیے یہ ایک طویل ویک اینڈ فراہم کرے گ. جس سے لوگوں کو کل پانچ دن کی چھٹی ملے گی۔اگر رمضان 30 دن کا ہو جائے تو عید کی تعطیلات مزید ایک دن بڑھ سکتی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سرکاری ملازمین عید الفطر کے لیے چھ دن تک کی چھٹیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی