پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کی حالیہ تحقیق ملک کے بجلی کے بلنگ نظام کو جدید بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ تحقیق سمارٹ میٹروں کے اپنانے کی سفارش کرتی ہے تاکہ مالی نقصانات، بلنگ کی غلطیوں، اور بجلی کی ترسیل میں نقائص کو حل کیا جا سکے۔

ریسرچ فار سوشل ٹرانسفارمیشن اینڈ ایڈوانسمنٹ (RASTA) پروگرام کے تحت کی گئی اس تحقیق کے مطابق پاکستان کا تقریباً 2 دہائیوں سے انحصار دستی بلنگ نظام پر ہے جو مالی خسارے کا سبب بن رہا ہے، یہ خسارہ بجلی کی ترسیل کے پرانے بنیادی ڈھانچے اور بجلی چوری کی سے مزید بڑھ گیا ہے۔ بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیاں (DISCOs) آمدنی کی وصولی میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، جبکہ صارفین اکثر بلنگ کی غلطیوں کا شکار ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاور سیکٹر کا گردشی قرض 2300 ارب روپے، اسمارٹ میٹرنگ کی طرف آنا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف

تحقیق کے مطابق خودکار میٹرنگ بنیادی ڈھانچے (AMI) کی طرف منتقلی بجلی کے انتظام کے لیے ایک شفاف، ڈیٹا پر مبنی کارکردگی اور درستگی کو یقینی بنا سکتی ہے۔

پی آئی ڈی ای کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے دستی بلنگ سے اسمارٹ بلنگ پر منتقلی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بجلی کے بلنگ نظام کی ناقص کارکردگی مالی نقصان اور صارفین کی مایوسی کی بڑی وجوہات ہیں۔ اسمارٹ میٹر ایک جدید حل فراہم کرتے ہیں جو چوری کو کم کرتا ہے، بلنگ کی درستگی کو بڑھاتا ہے، اور صارفین کو بجلی کے استعمال کا موثر انتظام کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ منتقلی بجلی کے شعبے کے لیے زیادہ پائیدار اور موثر طریقے سے ضروری ہے۔

راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، ملتان، فیصل آباد، اور سکھر سمیت بڑے شہروں میں کیے گئے سروے سے واضح ہوا کہ 79 فیصد صارفین سمارٹ میٹر اپنانے کے لیے تیار ہیں، چاہے انہیں ابتدائی لاگت اٹھانا پڑے۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ سمارٹ میٹر استعمال کرنے والے گھرانے اپنے بجلی کے بل 17 فیصد تک کم کر سکتے ہیں، جبکہ DISCOs اپنی آمدنی کی وصولی میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم نے ایکشن لے لیا، اووربلنگ میں ملوث افسران کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

اس سلسے میں کیس اسٹڈیز نے بھی اسمارٹ بلنگ کے فائدوں کو ظاہر کیا ہے، لیسکو کا تخمینہ ہے کہ مالی سال 2016-17 سے 2023-24 کے دوران 3 ہائی لاس فیڈرز پر 960 ملین کی بچت کی جائے گی، جبکہ میپکو نے 150,000 سمارٹ میٹروں کی تنصیب سے 11 مہینوں میں 2.

2 بلین کی اضافی آمدنی حاصل کی۔

تحقیق میں اسمارٹ بلنگ پر کامیاب عمل درآمد اور ہموار منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے صارفین کی آگاہی کے پروگرام، لچک دار ادائیگی کے منصوبے جن کے تحت صارفین اپنے بجلی کے بلوں کے ذریعے اقساط میں ادائیگی کرسکیں، اور ایک مسابقتی اسمارٹ میٹر مارکیٹ کے قیام کی تجویز پر زور دیا گیا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے مقابلے کے ذریعے لاگت کم کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا پری پیڈ میٹرنگ، بجلی چوری کا واحد حل ہے؟

مالی طور پر موثر ہونے کے علاوہ، سمارٹ میٹرز پاکستان کے پائیدار توانائی کے نظام کی طرف منتقلی کو بھی آسان بنا سکتے ہیں۔ ان کے موبائل ایپلیکیشنز اور سمارٹ گریڈز کے ساتھ انضمام سے توانائی کی تقسیم کو بہتر بنانے اور قابل تجدید توانائی کے اپنانے کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، ان فوائد کا حصول مضبوط حکومتی حمایت اور پالیسی کے ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسمارٹ بلنگ بجلی سمارٹ میٹر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بجلی سمارٹ میٹر سمارٹ میٹر بجلی کے کے لیے

پڑھیں:

کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک

علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔

محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔

محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ