اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 مارچ ۔2025 )پائیدار شمسی توانائی کی ترقی کے لیے لاگت اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے لیے پاکستان کی نیٹ میٹرنگ پالیسی میں اصلاحات کی ضرورت ہے ویلتھ پاک سے بات کرتے ہوئے وزارت توانائی کے ترجمان نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی نے عام طور پر شمسی پینل استعمال کرنے والے صارفین کو اپنی بجلی پیدا کرنے اور اضافی توانائی کو گرڈ میں واپس کرنے کی اجازت دی ہے بدلے میں وہ کریڈٹ حاصل کرتے ہیں جو ان کے بجلی کے بلوں کو پورا کرتے ہیں اس نظام نے خاص طور پر نو بڑے شہروں میں نمایاں ترقی دیکھی ہے جہاں نیٹ میٹرنگ کے 80فیصد صارفین رہتے ہیں تاہم نیٹ میٹرنگ کے فوائد بڑی حد تک ان شہری علاقوں کے متمول گھرانوں کے حق میں ہوتے ہیں جب کہ اخراجات تمام گرڈ صارفین میں تقسیم کیے جاتے ہیں.

انہوں نے کہاکہگزشتہ سال نان نیٹ میٹرنگ صارفین پر 102 ارب روپے کا بوجھ پڑا جس کی وجہ سولر صارفین کی طرف سے گرڈ کے استعمال میں کمی آئی اگر توجہ نہ دی گئی تو اگلی دہائی میں یہ بوجھ بڑھ کر 503 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے شمسی سرمایہ کاری کے لیے موجودہ ادائیگی کی مدت خاص طور پر مختصر ہے اکثر ایک سال کے اندر، جو تیزی سے اپنانے کی ترغیب دیتی ہے لیکن گرڈ کی مالی استحکام کو متاثر کرتی ہے تناﺅکو کم کرنے کے لیے پالیسی اصلاحات پر زور دیا جا رہا ہے جو تمام صارفین کے فوائد اور اخراجات میں بہتر توازن قائم کر سکتے ہیں اس تبدیلی کا مقصد توانائی کے پائیدار طریقوں کو فروغ دیتے ہوئے پاکستان کے پاور سیکٹر کی طویل مدتی عملداری کو یقینی بنانا ہے.

ویلتھ پاک سے بات کرتے ہوئے پائیدار توانائی اور بجلی کے نظام میں وسیع تجربہ رکھنے والے ایک سینئر انرجی پروفیشنل ڈاکٹر شاہد رحیم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے کو کافی رکاوٹوں کا سامنا ہے اس کے جواب میں حکومت اپنی نیٹ میٹرنگ پالیسیوں اور درآمدی محصولات کا از سر نو جائزہ لے رہی ہے جو تقسیم شدہ شمسی نظام کو اپنانے پر اثر انداز ہو سکتی ہے زیادہ تر شمسی تنصیبات فی الحال میٹر کے پیچھے اور نان گرڈ انٹرایکٹو ہیں جو کہ ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تکنیکی چیلنجز جیسے ریورس پاور فلو اور اوور وولٹیج گرڈ انضمام کو پیچیدہ بناتے ہیں لیکن موثر منصوبہ بندی اور سسٹم ڈیزائن کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے.

انہوں نے کہا کہ اس شعبے کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے، حکومت کو تقسیم شدہ شمسی توانائی کو رکاوٹ کے بجائے شراکت دار کے طور پر دیکھنا چاہیے روایتی ذرائع سے مقابلہ کرنے کے لیے شمسی توانائی کے لیے برابری کا میدان بنانے کے لیے ایک جامع قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک ضروری ہے انہوں نے کہاکہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو قیمتوں کے جدید ماڈلز کی سہولت فراہم کرنی چاہیے اور گرڈ میں حصہ ڈالنے والے صارفین کے لیے مناسب معاوضے کو یقینی بنانا چاہیے متوازن اور پائیدار توانائی کے مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے محتاط ضابطہ بہت ضروری ہے کیونکہ پاکستان کی شمسی توانائی کی توسیع اہم اقتصادی اور ماحولیاتی مواقع پیش کرتی ہے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نیٹ میٹرنگ پالیسی شمسی توانائی توانائی کے کے لیے

پڑھیں:

’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے طلبہ احتجاج کے تناظر میں ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے طلبہ اور سونم وانگچک سے اپیل کی ہے۔

سلمان خان نے نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’طلبہ کی تعلیم اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں خود بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے والدین کو مزید پریشان کرنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’معزز وزیرِ اعظم اس معاملے پر ٹوئٹ کر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘

        View this post on Instagram                      

اداکار نے اپنے پیغام میں گزشتہ 25 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تعلیمی کارکن سونم وانگچک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’سونم، اب بہت ہو گیا، بھائی۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال مزید طویل نہ کریں۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو احتجاج کا جذبہ برقرار رکھیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب اس کی ضرورت ہے۔ کچھ کھا لیجیے، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے آپ کے لیے کھانا بھی بھجوا دوں گا۔‘‘

یہ بیان سلمان خان کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے پر دوسری عوامی اپیل ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے نیٹ امتحان کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا تھا۔

        View this post on Instagram                      

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا